Burhanpoor

برہان پور۔۔۔۔۔۔دارالسرور

چشم بد دور
احوال و آثار
حسن بیگ۔۔۔۔۔ رائل ایشیاٹک سوسائٹی ،برطانیہ

آج کا برہان پور ایک معمولی خاک آلود قصبہ ہے، جو ہندوستان کے وسط میں ریاست مدھیہ پردیش میں واقع ہے۔ اس کے جنوب میں مہاراشٹر، شمال میں راجستھان اور یو پی اور مغرب میں گجرات کی ریاستیں ہیں۔ یہ دلّی سے بمبٔی کی مرکزی ریلوے لا ئن پردلّی سے ۵۰۰ میل دور واقع ہے۔ شہر کی حالت دگر گوں ہے، مدھیہ پردیش ٹورسٹ بورڈ کی غفلت پر آنسو بہانے کو دل چاہتا ہے۔ مغلیہ دور میں یہ ملک کا دوسرا صدر مقام تھا۔ اکبر سے اورنگزیب تک اور زیادہ تر شہزادگان یہاں تعینات رہے ۔ مغلیہ بندرگاہ سورت سے آگرہ کے راستوںمیں سے ایک راہ برہان پور سے گزرتی تھی۔ دکھن فتح کرنے کی جتنی بھی کوششیں ہوئیں ان کے لئے یہی شہر افواج کا ڈیرہ تھا، اس لئے دکھن کا دروازہ کہلاتا تھا۔ جنگجو یہاں پہنچ کر سکون کا سانس لیتے تھے، شاید اسی لئے اس کی کنیت دارا لسرور ہو ئی۔
بابر کے ہندوستان کے حملے کے وقت برہان پور ایک خودمختار ملک خاندیس کا دارلخلافہ تھا۔ اس کے مغرب میں گجرات، شمال میں مالوہ اور جنوب میں دکھن کے آزاد ممالک تھے۔ اکبر نے جن ممالک کو اپنی حکومت میں شامل کیا ، دکھن کو چھوڑ کر ایک خاندیس ہی تھا جس نے اپنی خودمختاری آخر تک قائم رکھی۔
خاندیس ملک راجہ احمد ۷۸۴۔۸۰۱ھ،(۱۳۸۲۔۱۳۹۹ء) نے قائم کیا۔ فرشتہ کے مطابق اسکے اجداد کا تعلق علاؤ الدین خلجی اور محمد تغلق سے تھا (۱)، لیکن گجرات کی ایک عربی تاریخ ظفر الو الہی بی مظفروعلیہ اس کو دکھن کے شاہ علاؤ الدین بہمن شاہ کا وزیر کہتی ہے(۲)۔ خاندیس کے حکمراں حضرت عمرؓکے اخلاف تھے اور فاروقی مشہور ہو ئے۔ انہوں نے ۲۱۹ سال خاندیس پر حکومت کی۔ملک راجہ حضرت زین الدین دولت آبادی کے مرید تھے۔ حضرت نے اپنا خرقہ مبارک ملک راجہ کو عنایت کیا تھا، جو ملک راجہ کے اخلاف میں آخر تک منتقل ہو تا رہا۔
خاندیس کےدوسرے حکمراں نصیر خاں فاروقی ۸۰۲۔۸۴۱ھ(۱۳۹۹۔۱۴۳۷ء)نے اپنا دارلحکو مت قلعہ اسیر گڑھ کو بنایا ۔ یہ قلعہ برہان پور سے ۱۷ میل شمال میں واقع ہے۔ اس وقت اس پر آسہ آہیر کا قبضہ تھا۔ نصیر خان نے دو سو جنگجو ڈولیوں میں چھپاکر بطور اہل خانہ
(۲)
کے بھیجے ، جنہوں نے استقبال پر ڈولیوں سے نکل کر قلعے پر قبضہ کیا۔ یہ ایک بڑا قلعہ ہے، اس کے تین طبقات ہیں۔ مقامی طور پر ان کو ملائی (گھٹنہ) گڑھ، کام(کمر) گڑھ اور اسیر(سر) گڑھ کہا جاتا ہے۔نصیر خاں کو خاں کا خطاب گجرات کی طرف سے ملا تھا، اور اس کے بعد ہی ملک کا نام خاندیش بھی پڑھا۔
نصیر خاں نےہی برہان پور کی بنیاد ڈالی۔ یہ حضرت برہان الدین دولت آبادی کے نام پر قائم کیا گیا۔ حضرت برہان الدین مرید تھے حضرت نظا م الدین اولیا ء کے، محمد تغلق نے جب ہندوستان کا دارالخلافہ دولت آباد منتقل کیا تو حضرت نظام الدین نے حضرت برہان الدین کو کئی سو مریدوں کے ساتھ دولت آباد بھیجا تھا۔ راستے میں حضرت نے دریائے تپتی کے کنارے قیام کیا، یہاں پر ایک گا ؤ ں دسانہ آباد تھا۔ دریا کے کنارے ایک بڑے پتھر پر آپ عبادت کیا کرتے تھے، جس کا نام آج کل نام ہتھیا کھڑک ہے اور یہ اب بھی دریائے تپتی کے بیچ میں موجود ہے۔ حضرت برہان الدین کے مرید حضرت زین الدین نے نصیر خاں والی خاندیس کو شہر کا نام حضرت برہان الدین کے نام پر رکھنے کو کہا۔ خود حضرت زین الدین کے نام پر یہاں کا ایک محلہ زین آباد بھی موجود ہے۔ حضرت برہان الدین کا وصال ۷۳۸ھ(۱۳۳۷ء) میں ہوا، آپ دولت آباد میں مدفون ہیں۔ حضرت زین الدین کا انتقال ۷۷۱ھ(۱۳۶۹ء) میں ہوا۔ دارالسرور در اصل تاریخی نام ہے اس کے ۷۰۲ عدد بنتے ہیں جو شاید اس کی آبادی شروع ہونے کا سال ہے۔
ملک راجہ احمد نے اپنے ملک کو دو حصوں میں تقسیم کرکے بڑا حصہ بڑے بیٹے نصیر خاں اور چھوٹا حصہ چھوٹے بیٹے حسن خان کو دیا تھا، لیکن وہ جو حضرت شیخ سعدی فر ما گئے ہیں:
و دو بادشاہ در اقلیمی نگجند( دو بادشاہ ایک اقلیم میں نہیں سماسکتے)(۳)
نصیر خاں نے اپنے بھائی کے حصے تھا لنیر کا محاصرہ کرکے اس پر بھی قبضہ کرلیا (۴)۔ شیخ زین الدین نے نصیرخاں سے کہا تھا کہ تمہاری حکومت اس وقت تک یہاں قائم رہے گی جب تک دریائے تپتی کے کنارے اس پتھر کی شکل ہاتھی کی نہ ہو جائے۔ اکبر نے برہان پور آکر جب یہ روایت سنی تو اس پتھر کو ترشواکر ہاتھی کی شکل بنوادیا تھا(۵)۔
یہ اب بھی بگڑی ہوئی شکل میں قائم ہے۔ مقامی لوگ موقعہ بہ موقعہ اس کو رنگ کرتے رہتے ہیں۔ یہ پتھر اس وقت دریا کے کنارے پر تھا لیکن آج کل بیچ دریا ہے۔
خاندیس پر پہلا حملہ مغل سردارادہم خان (۶)نے ۹۶۹ھ(۱۵۶۱ء) میں کیا۔ باز بہادر (۷) مالوہ میں شکست کھا کر برہان پور آیا اور اسیر گڑھ میں قلعہ بند ہو گیا۔ پیر محمد شیروانی (۸) نے جو ادہم خاں کے ساتھ تھا،۹۷۰ھ( ۱۵۶۲ء) میں خاندیس پر حملہ کیا، برہان پور کو لوٹا، وہاں قتل عام کیا، علماء اور سادات کو بھی نہیں چھوڑا۔ باز بہادر، مبارک خاں اور طفیل خاں نے مل کر پیر محمد سے مقابلے کی ٹھانی،
(۳)
لیکن پیر محمد نے مال غنیمت بچانے کے لئے راہ فرار اختیار کی۔ راستے میں دریائے نربدا کو عبور کرتے ہو ئے اس میں ڈوب گیا، بدایونی کے بقول ’یتیموں، غریبوں اور بے گناہوں کی آہ رنگ لائی‘۔(۹)
خاندیس کا سب سے معروف حکمراں راجہ علی خاں ۹۸۵۔۱۰۰۶ھ(۱۵۷۷۔۱۵۹۷ء) ہوا ہے۔ خان خاناں عبدالرحیم نے اپنی صلح کل کی پالیسی کے تحت اس کو اپنے ساتھ ملا لیا تھا۔ اس کو عادل شاہ چہارم بھی کہا جاتا ہے۔ مغل دستاویزات میں راجہ علی خاں، ملکی اور دکھنی مراسلات میں عادل شاہ۔ اس نے اپنی عقلمندی اور ہوشیاری سے مغل اور دکھنی سلطانوں سے تعلقات قائم رکھے۔ ۹۹۲ھ(۱۵۸۴ء) میں سلطنت برار سے جو مال غنیمت حاصل ہوا وہ اکبر کی خدمت میں پیش کردیا۔ ۹۹۵ھ(۱۵۸۶ء) میں مرزاعزیز کوکہ(۱۰)کے حملے کو طاقت اور سیاست سے لوٹنے پر مجبور کیا۔۱۰۰۵ھ(۱۵۹۷ء) میں خان خاناں عبدالرحیم کے ساتھ مل کر سہیل خان حبشی (۱۱)کی متحدہ دکھنی افواج پر فتح پائی، لیکن خود گولہ بارود کے ذخیرے میں دھماکہ ہونے کی وجہ سے جاں بحق ہوا۔وہ نہایت متقی اور پرہیزگار تھا۔ اس کے دور حکومت میں بزرگان دین اور مشائخوں کی بڑی قدر و منزلت تھی(۱۲)۔
جامع مسجد:راجہ علی خاںنے یہاں نئی جامع مسجد تعمیر کروائی۔ یہ بیچ شہر میں گاندھی چوک میں واقع ہے۔ اس سے پہلے کی جامع مسجد شہر کے باہری رخ پر تھی۔ اس نئی مسجد کے لئے پتھر مانڈو سے لایا گیا تھا۔پوری مسجد سنگ سیاہ سے تعمیر ہوئی ہے۔ اس میں وضو کے لئے دو حوض ہیں اس میں سے ایک حوض خان خاناں کا بنوایا ہوا ہے لیکن یہ پتہ نہیں چل سکا کہ کونسا خان خاناں والا ہے اور کون سا راجہ علی خاں کا ؟یہاں ایک کتبہ راجہ علی خاں کا تعمیر مسجد سے متعلق اور ایک اکبر کی طرف سے فتح اسیر گڑھ سے متعلق ہے، اکبر کے کتبے میں سال ۱۰۰۹ھ درج ہے ، حالانکہ سال فتح اسیر گڑھ ۱۰۱۰ھ(۱۶۰۰۱ء) ہے۔مسجد کے اندر ایک کتبہ قرانی آیات پر مشتمل ہے ۔ یہاں مقامی روایات کے مطابق اس کا ترجمہ سنسکر ت میں دیا ہوا ہے۔ سکندر بیگم، بھوپال جب حج پر جاتے ہو ئے یہاں رکیں تو انہوں نے ۱۲۸۲ھ(۱۸۶۵ء) میں ایک پھاٹک کی مرمت کروائی تھی۔
بی بی کی مسجد: برہان پور کی قدیم جامع مسجد بی بی کی مسجد کہلاتی ہے، یہ دلّی دروازے کے نزدیک واقع ہے۔ ملکہ بی بی راجہ رقیہ نے ۹۲۷۔۹۴۷ھ (۱۵۲۰۔۱۵۴۰)کے درمیاں بنوائی تھی۔ یہ مسجد بند ہے، اس کے چاروں طرف جنگلہ لگا ہو ہے ۔تاریخ برہان پور ل کی اشاعت کےوقت ۱۳۱۷ھ(۱۸۹۹ء) میں بھی اس کو مرمت کی ضرورت تھی(۱۳)۔
عبد الرحیم خاں خاناں: برہان پور کا عروج خان خاناں کا زمانہ قیام کہا جاسکتا ہے۔۔ وہ ۱۰۰۲ھ(۱۵۹۲ء) میں اکبر کے حکم پر برہان پور آئے۔وہ
تقر یباً بیس سال برہان پور میں قیام پذیر رہے۔ یہاں کے بہت سے آثار ان کے ہی تعمیر کردہ ہیں۔ان کا دور علم و ادب، اورشاعروں کی سرپرستی کا دور ہے۔اولیا ء کرام برہان پور میں ذکر ہے کہ خان خاناں قابلیت میں یکتاء روزگار، عربی ، فارسی، ترکی، ہندی کے علاوہ سنسکرت کا بھی علم تھا،
(۴)
موزوں طبع، سخن سنج تھا، اس کی محفل میں نامی گرامی شعراء موجود رہتے تھی، اہل فن و کمال اس کے گرد جمع تھے، جن کی وہ کفالت کرتا تھا۔ شاہ جلال الدین نعمانی صوفیوں کی کہانیاں سناتے تھے اور خان خاناں ان کو توجہ سے سنا کرتے تھے(۱۴)۔ ۱۰۰۲ھ (۱۵۹۲ء) میں پہلی دفعہ ان کی تعیناتی برہان پور میں ہو ئی تو یہاں شہزادہ مراد پہلے سے موجود تھا۔ سہیل خاں حبشی سے مقابلہ ہوا۔ اس کے بعد ۱۰۰۸ھ(۱۵۹۹ء)میں اکبر نے شیخ ابوالفضل کو یہاں بھیجا۔ بہادر خاں بن راجہ علی خاں نے اکبر کے کورنش و تسلیم کو ٹالا تو اکبر خود ۱۰۰۹ھ(۱۶۰۰ء) میں برہان پور آیا شیخ ابوالفضل نے اسیر گڑھ کا محاصرہ کرکے اس کو ۱۰۱۰ھ(۱۶۰۱ء)میں فتح کیا۔ خان خاناں دوسری مرتبہ ۱۰۰۷ھ(۱۵۹۸ء) میں یہاں تعینات ہو ئے، اور عرصے تک یہیں رکے رہے۔
مقبرہ شاہ نوازخاں: شاہ نواز خاں بن خان خاناںبرہان پور کے آثارات میں سب سے بہتر حالت میں ہے۔ یہ اتولی دریا پر شہر سے دو میل دور واقع ہے۔ ایک بڑا گنبد اور چار کونوں پر مختصر مینار۔ مصنوئی قبر ایک چبوترے پر اور اصلی قبریں زیر زمیں۔ چاروں طرف باغ ۔ مقبرے کی حالت خان خاںاں عبدالرحیم کے اپنے مقبرے، نظام الدین دہلی سے بہتر حالت میں ہے۔اس کا اصلی نام ایرج مرزا تھا، شاہ نواز خاں کا خطاب جہانگیر نے دیا تھا۔ شاہ نواز نے خان خاناں کے حکم پر ۱۰۲۵ھ(۱۶۱۶ء) میں بالا پور سے حملہ کرکے عنبر دکھنی کو شکست دی، یہ ایک عظیم فتح تھی۔ اس کی موت پر جہانگیر تذکرہ کرتے ہوئے لکھتا ہے۔۔’یہ افسوس ناک خبر سن کر مجھے از حد ملال ہوا، حقیقتاً مرحوم ایک نہایت اچھا خانہ زاد تھا‘(۱۵)۔
کنڈی بھنڈارا:خان خاناں نے برہان پور میں پانی کی کمی کو دور کرنے کے لئے یہاں ایک کاریز بنوائی تھی۔ اس کا آج کل نام کنڈی بھنڈارا ہے۔ ستپترا کی پہاڑیوں میں کنویں کھود کر ان کا پانی زیر زمین نہروں سے برہان پور لے جایا جاتا تھا۔ پانی کو تازہ رکھنے کے لئے اس پر فاصلے سے کنویں بنے ہوئے ہیں، جوکل ستر ہیں اور آج بھی قا ئم ہیں۔اس زمانے میں پورا شہر اور باغات اسی کاریز سے سیراب ہو تے تھےلیکن اب شہر کے ایک حصے میں پانی پہنچتا ہے۔ ایک لفٹ کے ذریعہ ۲۵ میٹر نیچے جایا جاسکتا ہے، جہاں نہر رواں ہے۔ یہ نہر خیر و جاری مشہور ہے۔ پانی ایک میٹر گہرا ہے۔ اس کو قائم رکھنے کے لئے شاہجہاں اور اورنگزیب نے بھی اس میں اضا فے کئے تھے۔ یہ خان خاناں کی عوامی خدمت کی عمدہ مثال ہے۔
سرائے اور مسجد: شہر سے باہر کوئی تین میل کے فاصلے پر ایک سرائے اور اس کے پیچھے ایک مسجد انتہائی خستہ حالت میں موجود ہیں، جو خاں خاناں کے بنوائے ہوئے ہیں۔ سرائے کی چار دیواری نہیں اور مسجد کے صرف مینار باقی ہیں۔ شہر میں بھی ایک اکبری سرائے ہے جس میں آج کل گودام بنے ہو ئے ہیں۔
جنتا حمام:ایک بڑا حمام خان خاناں نے اس وقت کے معمار محمد علی خراسانی سے ۱۰۱۶ھ(۱۶۰۷ء) میں تعمیر کروایا تھا۔ یہ آج کل جنتا حمام کہلاتا ہے۔ انتہائی خستہ حالت میں ہے۔ اندرون کے آثار پرانی شان کے گواہ ہیں۔
(۵)
بادشاہی قلعہ: برہان پور میں شاہی قلعہ دریائے تپتی کے کنا رے اونچائی پر واقع ہے۔ بادشاہ عادل خاں دوئم جس کی حکومت کا دور ۸۶۲۔۹۰۹ھ(۱۴۵۲۔۱۵۰۳ء)ہے ، نےاس کو تعمیر کیا۔ اس میں آٹھ پھاٹک اور سات منزلیں تھیں۔ شاہجہاں نے یہاں دو سال قیام کیا تھا اور اس میں اضا فے کئے تھے۔ اس کی زیادہ تر عمارات گر چکی ہیں اب صرف ڈھانچے باقی ہیں۔ اس کو ایک اچھی تفریح گاہ کے طور پر ترقی دی جاسکتی ہے۔
آہو خانہ اور بارہ دری: شہر سے باہر فاروقی دور سے قائم یہ تفریح گاہیں ہیں جس میں مغل دور میں اضا فے ہوئے ہیں جو دانیال بن اکبر کے ہیں، جویہاں بطور حاکم تعینات تھا۔ آہو خانے کے سامنے ایک تالاب اور اس کے درمیاں ایک چبوترا ہے جس پر کبھی سازندے مو سیقی کی دھنیں بکھیرتے ہو نگے۔ شاہ جہاں نے اپنی بیٹی عالم آرا کے نام پر اس کا نام باغ عا لم آرا رکھا تھا۔ بیگم ممتاز محل کا انتقال برہان پور میں ہوا تھا۔ ۱۰۴۰ھ(۱۶۳۱ء) میں ان کی نعش کو یہاں دفن کی گیا تھا۔ آہو خانہ اور اس کے سامنے کی بارہ دری میں سے کسی ایک عمارت میں دفن رہیں۔ چھ ماہ بعد ان کو تاج محل منتقل کیا گیا۔
ممتاز محل کا حمام: شاہ جہاں نے اپنے شوق کے پیش نظر بادشاہی قلعے میں ممتاز کےلئے ایک حمام تیا کروایا تھا۔ اس کے کچھ آثار اب بھی باقی ہیں۔ شاہ جہاں برہان پور میں ۱۰۳۰ھ(۱۶۲۰ء) میں آیا۔ طرز تعمیر بھی اس کی ہی معلوم ہو تی ہے۔ اس کے چار طبقات تھے جن میں ہر ایک حوض میںمختلف درجہ حرارت کا پانی غسل کے لئے رہتا تھا۔ اب ایک کمرے میں حوض باقی ہے۔ چھتوں اور دیواروں کے نقش و نگار پچھلی شان کی گواہی دے رہے ہیں۔ یہاں چھت پر ایک مختصر تاج محل نما عمارت بنی ہوئی ہے، جس کو یہاں لوگ تاج محل کی ارتقائی شکل بتاتے ہیں۔
محل گل آرا:برہان پور سے پندرہ میل کے فاصلے پر ایک اور عمدہ تفریح گاہ ہے۔ دریا پر ایک بند اور تین میٹر کی آبشار ہے۔ فاروقی یا مغل دور سے قا ئم ہے۔ دو عمارات جو دریا کے دو کناروں پر بنی ہوئی ہیں شاہجہانی ہیں۔گل آرا کے متعلق معلوم نہیں ہو سکا، شاید حرم ہو۔
خربوزی گنبد: شاہ شجاع بن شاہ جہا ں بھی برہان پور میں ۱۰۴۳ھ(۱۶۳۳ء) میں بطور حاکم رہا۔ ان کی بیگم کا انتقال بھی بچے کی پیدائش پر ہوا۔ ان کے مقبرے کو خربوزی گنبد کہا جاتا ہے۔ یہ ایک گول عمارت ہے جس کے اوپر گنبد ہے۔ یہ مغل عمارات سے مختلف ہے۔
گنبد کے اندر نقوش انتہائی زینت بخش ہیں اور برہان پور کی عمارات میں سب سے زیادہ محفوظ ہیں، شاید اس لئے کہ یہ مقبرہ ہر وقت بند رہتا ہے اور اس کو کھلوانا جو ئے شیر لانا ہے۔
راجہ جی کی چھتری:راجہ جے سنگھ اورنگزیب کے پانچ ہزاری امیر تھے۔ انہوں نے دکھن اور بیجاپور میں خدمات انجام دی تھیں۔ شیواجی اور اس کے داماد نیتوجی کو ان کی شکست کے بعد اورنگزیب کے پاس روانہ کیا تھا(۱۶) راجہ جی کا دیہانت برہان پور میں ۱۰۷۸ھ ( ۱۶۶۸ء) میں ہوا۔
۶
راجہ کے کریا کرم کے بعد ان کی خاک پر یہ چھتری اورنگزیب نے تعمیر کرائی تھی۔ مغلیہ طرز تعمیر ہے۔ دریا سے کافی او نچائی پر ایک بلند چبوترا ہے اس پر چاروں طرف ستون ہیں جو چھت پر ایک بڑے گنبد اور کئی چھوٹے گنبدوں کو سہارا دئیے ہو ئے ہیں۔
اورنگزیب بھی برہانپور میں صوبیدار رہا ہے۔ ۱۰۶۴ھ (۱۶۳۶ء)میں جب وہ شہزادہ تھا یہاں آیا اور برہان پور کو اس نے صدر مقام بنایا۔ ۱۰۹۲ھ ( ۱۶۱۸ء) میں بادشاہت کے بعد اس نے عمر عزیز کا ا ایک بڑا حصہ برہان پور میں ہی گزارا۔ دکھن کی مہم سے پہلے شیخ برہان الدین راز الٰہی کےپاس دعا کے لئے گیا(۱۷)۔ اسنے یہیں اپنی خالہ زاد بہن سے شادی کی۔ وہ شیخ جنداللہ پا ٹا ئی ثم برہان پوری کی درگاہ پر جایا کرتا تھا (۱۸)۔ اس کا بارود خانہ انتہائی خستہ حالت میں برہان پور میں موجود ہے۔
برہان پور اور سندھ: سندھ کے برہان پور سے تعلقات زمانہ قدیم سے ہیں۔ ہمایوں کی سندھ آمد سے پہلے ۹۵۰ھ (۱۵۳۳ء) سے صوفی خانوادے مسیح الاولیاء کے بزرگ برہان پور آتے رہتے تھے(۱۹)۔ ہمایوں کے سندھ میں آنے کی وجہ سے اور سندھ کے خان خاناں کی فتح سے اس مہاجرت کو تقویت ملی۔ اس سفر کی وجہ جا ئے سکون کی تلاش تھی ۔ نہ صرف صوفی بلکہ سندھی بیوپاری اور پارچہ باف ہجرت کرتے تھے۔ برہان پور میں ان کے رہنے کا محلہ سندھیاں اور بعد میں سندھی پورہ کہلایا (۲۰)۔ سندھی محلہ خان خاناں کا آباد کیا ہوا ہے۔ ایک اور محلہ خیر خانی میں زیادہ تر ٹھٹہ کے مہاجر آباد ہو ئے۔
برہان پور میں مسافر، جاسوس اور حجاج:برہان پور مرکزی شاہراہ سورت اور آگرہ پر ہونے کی وجہ سے ہمہ اقسام کے لوگوں کی گزر گاہ تھا۔ پا لسرٹ(۲۱) ایک ڈچ پادری یہاں سے گزرا۔ کئی ایک انگریز مسافر اور جاسوس برہان پور آئے۔ ولیم ہاکنس۱۰۱۷۔۱۰۲۲ھ(۱۶۰۸۔۱۶۱۳ء) نے یہاں خان خاناں سے ملاقات کی گفتگو ترکی میں ہو ئی۔
تحا ئف کا تبادلہ ہوا، دعوت ہو ئی، خان خاناں نے ایک تعارفی خط بادشاہ کے نام دیا(۲۲)۔ ولیم فنچ ۱۰۱۷۔۱۰۲۰ھ(۱۶۰۸۔۱۶۱۱ء) نے یہاں کےباغ خان خاناں کی تعریف کی، جس کے اطراف چار دیوار ی تھی۔ اس کے اندر حوض اور مہمان خانہ تھا(۲۳)۔ تھامس رونے ۱۰۲۷ھ (۱۶۱۷۔۱۶۱۸) میں خان خاناں کی بنوئی ہوئی سرائے میں قیام کیا، سارا شہر مٹی کے مکانات کا بنا ہوا تھا، سوائے دو کہ جو شہزادہ پر ویز اور
خان خاناں کے تھے(۲۴)۔ ٹے ورنیر ۱۰۱۴۔ ۱۱۰۱ھ ( ۱۶۰۵۔۱۶۸۹ء) نے برہان پور کی تجارتی اہمیت پر روشنی ڈالی (۲۵)۔ بیگم بھوپال کے سفرحج کا ذکر اوپر ہو چکا ہے۔
تجارت: برہان پور پارچہ بافی کی بڑی تجارتی منڈی تھا۔ مختلف اقسام کے پارچہ جات، جس میں مشروع، کمخواب، اطلس، تمامی تاش، مہتابی قور ریشمی و کلا بتوی، کناری، چھینٹ، ڈوریہ وغیرہ شامل ہیں۔ اس کے علاوہ دستار ریشمی اور دوپٹے ریشمی بھی تیار ہو تے تھے۔ یہ ہتھیار تیار کرنے کا بھی مرکز تھا، کٹاریں، پیش قبض اور بندوقین بنائی جاتی تھیں۔ ظروف میں تانبے، پیتل۔ کانچ، سفالی،جوزی اور روغنی وغیرہ۔ شہر میں چاروں طرف باٖغات تھے، ہر قسم کے پھل خاس طور پر آم لال باغ کے علاقے میں پائے جاتے تھے۔ کاشتکاری عام تھی۔خاص طور پر تھور کی دال، پان، تمباکو
۷
اور گڑ(۲۶)۔ ٹے ورنیر کہتا ہے کہ یہ بڑی منڈی ہے، یہاں سے سامان ترکی، روس، پولینڈ، عرب اور قاہرہ جاتا ہے۔ آج کل سب سے بڑی پیداوار کیلے اور ککڑی کی ہے(۲۷)۔
علم و ادب: برہان پور صدیوں علم،ادب اور صوفیوں کی آماج گاہ رہاہے۔ماثر رحیمی، جو تاریخ ہندوستان اور تاریخ عبدالرحیم و بیرم خاں ہے،عبدالباقی نہاوندی نے یہیں ۱۰۲۵ھ(۱۶۱۶ء) میں تصنیف کی۔تحفہ المرسلہ النبی، نعت رسول مقبولؑ ۱۰۳۰ھ(۱۶۲۰ء) میں محمد فضل اللہ برہان پوری نے تحریر کی(۲۸)۔ تاریخ مرأت الصفا، میر محمد علی برہان پوری کی تصنیف جو ماثر الاامراء کا ایک ماخذ ہے(۲۹)۔ تاریخ برہان پور، محمد خلیل الرحمٰن نے ۱۳۱۷ھ(۱۸۹۹ء)میں یہاں کے نو شعراء، ستائیس قاضی و علما ء اور ستر صوفیوں کا تذکرہ ہے۔ تاریخ اولیا کرام برہان پور بھی اولیا کرام کا ذکر کرتی ہے یہ بشیر محمد خاں نے ۱۳۹۰ھ(۱۹۷۰ء) میں تحریر کی۔ سندھی ادبی بورڈ نے برہان پور کے سندھی اولیا کا تذکرہ ۱۴۲۷ھ(۲۰۰۶ء) میں شائع کیا ہے۔یہ اس کی تیسری اشاعت ہے۔
بعد کے واقعات: مغلیہ دور کے بعد آصف جاہ اول، نظام حیدرآباد نے ۱۱۳۲ھ(۱۷۱۹ء) میں قلعہ آسیر اور برہانپور کو ایک معاہدے کے تحت حاصل کیا اور برہان پور میں ۱۱۶۱ھ(۱۷۲۸ء) میں حصار پناہ کی تعمیر کی۔ حیدر آباد کے نواب صلابت جنگ نے ۱۱۷۳ھ (۱۷۵۹ء) میں سات لاکھ کا ملک مرہٹوں کو دیا، جس میں برہان پور شامل تھا(۳۰)۔ مرہٹوں نے مدد معاش، اخراجات مساجد و مقابر موقوف کردئے۔ قلعہ اوردوسری
عمارات کو منہدم کیا اور ان کا چونا، خشت و سنگ فروخت کردئے۔ ۱۲۰۵ھ (۱۷۹۰ء) میں ہندوستان میں قحط پڑا، جس کی وجہ سے شہر کے حالات خراب ہو ئے۔ دریائے تپتی میں ۱۲۳۷ھ (۱۸۲۱ء) میں سیلاب آیا، جس سے شہر کا عظیم نقصان ہوا۔ محرم اور ہو لی کے موقع پر فسادات کا آغاز
۱۲۳۰ھ (۱۸۱۴ء) سے شروع ہوا۔ ۱۲۶۴ھ (۱۸۶۷ء) میں فساد کے دوران کپتان رسالہ پلٹن لے کر آئے اور کہا ہم فساد نہ ہونے دیں گے، لیکن کسی بات پر ناراض ہو کر چلے گئے اور فسادیوں کو لڑنے کو چھوڑ دیا۔۔ دو دفعہ آگ نے نقصان عظیم پہنچایا۔ ۱۲۶۵ھ (۱۸۴۸ء) میں سندھی پورہ اور ۱۳۱۶ھ (۱۸۹۶ء) میں محلہ لوہار منڈی میں ہزاروں مکانات خاک ہو گئے۔ جیاجی سندھیا نے ۱۲۷۸ھ (۱۸۶۱ء) میں جھانسی کے بدلے برہان پور کو انگریز سرکار کو دے دیا، جو ناگپور کمشنری کےتحت ہو گیا(۳۱)۔
آج کل برہان پور بوری مسلمانوں کی درگاہ حکیمی، سکھوں کے راج گھاٹ گردوارے اور ہندؤں کے اچھا دیوی مندر کے لئے جانا جاتا ہے۔
اظہارتشکر: اس مضمون اور برہان پور کے متعلق معلومات و ماخذ کی فراہمی کے لئے میں حکیم ڈاکٹرحمید الدین اور امام جامع مسجد مولانا سید طلعت تمجید کا انتہا ئی مشکور ہوں۔ برہان پور کے آثار قدیمہ کے سلسلے میں مدھیہ پردیش ٹورسٹ بورڈ کی شائع کردہ ٹریول گائیڈ کی مدد کے لئے میں ایکر گوڈ ارتھ پبلی کیشنز، نئی دہلی کا شکر گزار ہوں۔
۸
حواشی و ماخذ
۱)فرشتہ،تاریخ (انگریزی ترجمہ ۔برگز) سنگ میل پبلی کیشنز، لاہور، ۱۹۷۷:ج۴،ص۲۸۰۔
۲)ہیگ، فاروقی ڈائی نیسٹی اوف خاندیش، دی انڈین اینٹی کویری: ۱۹۱۸،۴۷، ص۱۱۴۔
۳)ایضاًماخذ ۱، ج۴،ص۲۹۲
۴)شیخ سعدی، گلستاں، مکتبہ دانیال، لاہور،۲۰۰۱، ص۲۸۔
۵)محمد خلیل الرحمٰن، تاریخ برہان پور، برہان پور ، ۱۸۹۹، ص
۶) شاہ نواز خان،ماثر الا امراء، مرکزی اردو بورڈ، لاہور،۱۹۶۸ج۱،ص۸۰۔ اکبر کا دودھ شریک بھائی اور پانچ ہزاری امیر۔ اکبر نے اس کو مالوہ کی تسخیر کے لئے بھیجا تھا۔ اس نے مال غنیمت میں خیانت کی۔ اکبر کو یہ ناگوار ہوا۔اس کی اصلاح کے لئے اکبر نے اس پر یلغار کی تھی۔
۷)ایضاً ماخذ ۶، ج۱،ص۳۸۵،باز بہادر کا باپ شجاعت خان شیر شاہ کا امیر تھا۔ اس کے پاس مالوہ کی حکومت تھی جو باز بہادر کو ورثے میں ملی۔ باز بہادر راگ و نغمے کا شوقین تھا۔ اس کا معاشقہ روپ متی سے مشہور ہے۔
۸)سوکمار رے ، حسن بیگ، بیرم خان، انسٹیٹیوٹ اوف سنٹرل اینڈ ویسٹ ایشین اسٹڈ یز، کراچی یو نیورسٹی،۱۹۹۲، ص۲۰۷، پیر محمد خاں شیروانی بیرم خاں کے پروردہ ملا تھے۔ قندھار میں بیرم کے پاس آئےاور ترقی کرکے اکبر کے پاس پہنچے۔بیرم کے زوال پر ان کو ہی بیرم کو ہندوستان کی سرحد پار چھوڑنے کا کام سپرد ہوا تھا۔
۔ ۹)بدایونی، منتخب التواریخ، اکیڈیمیکا ایشیا ٹیکا، پٹنہ، ۱۹۷۳، ج۲، ص۴۷
۱۰)محمد حسین آزاد، دربار اکبری، قومی کونسل برا ئے فروغ اردو، نئی دہلی، سال اشاعت دیا ہوا نہیں،ص۲۶۱
۱۱)منشی دیبی پرشاد، حسن بیگ، خان خاناں نامہ، شہر بانو پبلشرز، کر یکا ڈی، ۲۰۰۵، ص ۲۸۔ سہیل خاں حبشی خواجہ سرا کو احمد نگر، بیجا پور اور گولکنڈا کے بادشاہوں نے متفق ہو کر ساٹھ ہزار لشکر کے ساتھ خان خاناں اور راجہ علی خاں سے جنگ کے لئے بھیجا تھا۔
۱۲)ایضاً ماخذ۵، ص ۴۳۔
۱۳)ایضاً ماخذ ۵، ص ۱۹۔
۱۴)بشیر محمد خاں، تاریخ اولیاء کرام برہان پور، ۲۰۱۱ان کی اپنی اشاعت، برہان پور، ص ۹۔
۱۵)جہانگیر، تزک، (انگریزی ترجمہ، راجرس، بیورج) سنگ میل، لاہور، ۱۹۷۴، ج۲، ص ۸۷۔
۱۶)خفی خاں، تاریخ عالمگیر، پاکستان ہسٹاریکل سوسائٹی، کراچی،۱۹۷۵، ص۱۸۳۔
۹
۱۷)ایضاً ماخذ ۱۶، ص ۱۳۔
۱۸)محمد مطیع اللہ راشد، برہان پور کے سندھی اولیاء، سندھی ادبی بو رڈ، جامشورو، ۲۰۰۶،ص ۲۲۔
۱۹)ایضاً ماخذ ۱۸، ص۱۷
۲۰)ایضاً ماخذ ۱۸، ص ۲۳۔
۲۱)مورلینڈ و گیل، جہانگیر کا ہندوستان، لو پرائس پبلی کیشنز، دہلی، ۲۰۱۱، ص۳۷
۲۲)ولیم ہاکنس، ( ولیم فوسٹر، ادارت) ارلی ٹریولز ان انڈیا، البیررونی، لاہور، ۱۹۷۸، ص ۸۰۔
۲۳)ولیم فنچ، ایضاً ماخذ ۲۲، ص ۱۳۸۔
۲۵)تھا مس رو، دی ایمبیسی اوف سر تھامس رو(ولیم فوسٹر، ادارت) اوکسفورڈ، ۱۹۲۶، ص۶۸۔
محمد خلیل الرحمٰن، تاریخ برہان پور، ۱۸۹۹، ص ۱۱۵ ۲۶)
۲۷)ٹے ورنیر، ٹریولس ان انڈیا( بال، ادارت) البیرونی، لاہور، ۱۹۷۶، ص ۵۱۔
۲۸)اینی میری شمل، ریلی جیس پو لی سیز اوف گریٹ مغلز ( دی مگنی فیشنٹ مغلز، زینت زاہد، ادارت) اوکسفورڈ، کراچی، ۲۰۰۲، ص ۷۸۔
۲۹) میر عبد الحی، پیش لفظ ،ماثر الامراء، مرکزی اردو بورڈ، لاہور، ۱۹۶۸، ج۱ ص ۲۶
۳۰)ایضاً ماخذ ۵، ص ۱۰۹۔
۳۱) ایضاً ماخذ۵، ص ۱۱۶

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *