Hakim Shuja uddin

یاد رفتگان
حکیم شجاع الدین
محمود علی بیگ و حسن علی بیگ

 


حکیم صاحب دلّی والے تھے ان کی حویلی گلی چاہ شیریں، محلہ فراش خانہ میں تھی۔ گلی چاہ شیریں کا نام جب فارسی زبان کو انگریزوں نے ختم کر دیا تو
میٹھے کنوئیں کی گلی ہو گیا تھا ۔ حکیم صاحب کا نسلی تعلق خواجہ عبید اللہ احرار سے تھا جو نقشبندی سلسلے کے مشہور صوفی ہیں، ا ن کا وسط ایشیاء میں آج بھی بہت اثر ہے ۔ دلّی میں حکیموں کے کئی خاندان طبا بت کے لئے مشہور رہے ہیں ان میں سے ایک مشہور حکیمی پیشہ ور خاندان احسن خانی سے آپ کا سلسلہ ہے۔ یہ سلسلہ حکیم احسن اللہ خاں سے شروع ہوتا ہے، جو بہادر شاہ ظفر کے وزیر اعظم اور معالج تھے۔
آپ کے والد بزرگوار حکیم بدر الدین نے حکیموں کے امتحانوں کے لیے لکھی جانے والے عربی کتا ب امتحان الا لبالکافۃالاطباء کا اردو ترجمہ بدرالدجیٰ کے نام سے کیا تھا۔ یہ عربی مخطو طہ حکیم احسن اللہ خاں کے کتب خا نے میں تھا۔ اس کے چار صفحات حکیم احسن اللہ خاں کا گھر جنگ آزادی ۱۸۵۷ میں لٹنے پر غا ئب ہو گئے تھے۔ علامہ شبلی نعمانی ،جن کی حکیم بدر الدین سے شناسا ئی تھی ، اپنے سفر مشرق وسطیٰ کے دوران ان کوتلاش کرتے رہے اور آخر کار اس کو خدیو، حاکم مصر کے کتب خانے، قاہرہ میں ڈھونڈ نکالا اور ان صفحا ت کی کاپی لا کر حکیم بدر الدین کو دی جس سے اس کتاب کے ترجمے کی تکمیل ہوئی۔ اس کی اشاعت ۱۹۰۰؁ میں ہوئی۔
تقسیم ہند سے پہلے، بیسویں صدی کی پہلے نصف میں مسلمان پیشہ ورں کی زندگی کے متعلق زیادہ معلومات نہیں ملتیں، ان کے اطوار، ان کے رہن سہن کے طریقے اور ان کی معا شرت پر اس مضمون سے خا صی روشنی پڑتی ہے۔ اس لئے قارین کی دلچسپی کا سامان مو جود ہے۔
والد گرامی محمود علی بیگ یہ خاندانی قصے ایک ڈائری میں سپرد قلم کر گئے جو ان کے انتقال کے بعد مجھے بہن سے ملی، جس کا ایک تذکرہ حکیم شجاع الدین سے متعلق، مندرجہ ذیل ہے ۔(حسن علی بیگ)
حکیم ،حاجی، حافظ شجاع الدین میرے نانا تھے۔ گورا رنگ، سفید ڈاڑھی پر خضا ب لگاتے تھے۔ غلافی آنکھیں، سر پر پٹھے جنکی لمبائی کانوں کی لو تک تھی، لمبا قد، بنیان، ململ کا کرتہ چکن کا انگرکھہ یا چکن کا کرتہ ململ کا انگرکھہ، سلیم شاہی جوتی۔ گول ٹوپی، جاڑوں میں انگرکھے پر کمری یا کڑاکے
کےجاڑے میں دوشالہ اوڑھتے تھے۔صبح سویرے ہی مطب میں بیٹھ جاتے تھے، گیارہ بجے تک مطب کرتے۔ مطب سے فارغ ہو تے تو پیارے خاں قوّال جس کو رہائش کے لئے ایک کمرہ دے رکھا تھا حا ضر ہو تا اور گانا سناتا رہتا تھا۔ کچھ دوست آجاتے کبھی شطرنج، کبھی پچیسی کھیلتے رہتے تھے۔ تقریباّ بارہ بجے کھاناکھاتے، قیلو لہ کرتے۔ سہ پہر کو نہا دھو کر کپڑے بدلتے۔ رام لعل گاڑی لیکر حاضر ہو جاتا۔ سیر کر نے جاتے، مغرب کے بعد گھر آتے، کھانا کھاتے عشا ء کی نماز پڑھتے، کچھ دیر باتیں کرتے اور پھر سو جاتے۔ گرمیوں کے دنوں میں دوپہر کو
تہ خانے میں چلے جاتے اور سہ پہر کو باہر واپس آتے۔ خربو زوں کے زمانے میں خربوزے، تربوز خود کھاتے اور سب کو کھلاتے تھے۔ آموں کے زمانے میں آم بکثرت لاتے اور سب کو فر مائش کرکے کھلا تے تھے۔ گرمیوں میں ہی میں کچھ عرصے کے لئے فدائی خاں باغ میں سکو نت اختیار کرتے تھے۔ فدائی خاں باغ روح اللہ خاں کی سرائے کے قریب واقع تھا۔ پچیس بیگہ پختہ کا باغ تھا۔ چاروں طرف پختہ چار دیواری تھی۔ دروازہ
لو ہے کا تھا، جو بند رہتا تھا، جب ہم جاتے تو مالی کھول دیتا تھا۔ باغ میں روئشیں بنی ہو ئی تھیں اور اتنی چوڑی تھیں کہ گاڑی اور بعد کے زمانے میں جب موٹر میں جاتے تو موٹر کوٹھی تک چلی جاتی تھی۔ باغ کے وسط میں بہت وسیع پختہ حوض تھا۔ اس کے بیچ میں فوارہ، چاروں طرف پختہ چبوترہ تھا۔ اس کے ایک جانب کوٹھی تھی۔ اس کے سامنے آدمیوں کے لئے کوٹھڑیاں باورچی خانہ، دوسری جا نب پاخانہ، حوض کے ایک جانب کچھ بزرگوں کی قبریں تھیں۔ باغ میں داخل ہوتے ہی ایک چھو ٹی سی مسجد بنی ہو ئی تھی، جس کی چھت کے اوپر گنبد تھا، اوپر جانے کے لئے زینہ تھا۔ مسجد کے سامنے والدہ حکیم صاحب شمس النساء بیگم ، جو امّی مشہور تھیں، اور ان کی والدہ کی قبریں تھیں۔ باغ کے شمالی جانب نہر سعادت خاں گزرتی تھی، اس میں سے ایک چھوٹی نہر باغ میں آتی تھی جس سے تمام درختوں کو پانی دیا جاتا تھا۔ اس نہر کا کچھ حصہ پختہ تھا جس میں ہم نہایا کرتے تھے۔ باغ میں بہت سارے تختے الگ الگ پھلوں کے لئے مختص تھے، ہما قسم کے پھل دار درخت تھے، آم، جامن، لوکاٹ، آڑو، چکٹی آڑو، بڑہل، سرخ و سبز کمرقیں، ناشپاتی، کیلا، فالسہ، انگور اور شہتوت کے علاوہ کچھ پھولوں کے پو دے تھے۔
زیادہ تر درخت انتہائی بلند اور گھنے تھے، کتنی بھی لو چلے، وہاں گرم ہوا کا نام نہ تھا، درختوں میں سے چھن چھن کر ٹھنڈی ہوا آتی تھی۔ گرمی کے دن وہاں بڑے سکون سے گزرتے تھے۔ دلی شہر سے صرف تین میل پر یہ باغ واقعہ تھا۔ حکیم صاحب علی الصباح اپنی گاڑی سے اپنے مطب آجاتے اور مطب سے فارغ ہو کر پھر باغ واپس پہنچ جاتے۔ اگر محلے کی غریب عورتوں میں سے کوئی فرمائش کرتی تو اس کو بھی اپنے ساتھ لے آتے، جب تک وہ چاہتی وہیں رہتی اور جب دل بھر جاتا تو واپس نا نا اباّ کے ساتھ آجاتی ۔
حکیم صاحب صرف صبح کو مطب کرتے تھے، اللہ تعالیٰ نے اس میں ہی برکت دے رکھی تھی، اپنی جائداد اور باغات تھے، زمینیں تھیں، اطمینان و سکون تھا۔ آپ کے کوئی اولاد نرینہ نہیں تھی اس لئے اپنے نواسے کو متنبہ بنا رکھا تھا اس کا نام بھی اپنے نام پر فصیح الدین رکھا۔ فصیح الدین کی ختنہ کی شادی بڑے دھوم دھام سے کی تھی۔ پہلے تو دلّی میں کئی روز مہمانداری رہی، فصیح الدین گھوڑی چڑے، باقائدہ جلوس جامع مسجد باجے تاشے کے ساتھ گیا، وہاں تبرکات کی زیارت کی، گھر واپسی پر تقاریب شروع ہونے سے آٹھ روز پہلے سے گلی چاہ شیریں کے دروازے پر نو بت بیٹھی، سارے ہفتے نفیری بجتی رہی، سارے کنبے کی عورتیں جمع ہوئیں جیسے شادی میں ہوتی ہیں، تھو ڑی دیر کی شادی نہ تھی جیسے آج کل کا رواج ہے، بلکہ پورے ہفتے چہل پہل رہی، صبح کا ناشتہ، دوپہر کا کھانا، رات کا کھانا بڑے انتظام اور سلیقے سے پکتا رہا، سب کی خوب خاطر تواضع ہوئی، پھر نانی اماں سب کنبے والوں کے ساتھ فدائی خاں باغ میں گئیں، وہاں قناتیں اور شامیانے لگے۔ ایک ہفتے تک وہاں بھی مہمانداری رہی، خوب ڈومنیوں کے ناچ گانے ہوئے، گھر پر بھی ڈومنیاں ناچی گائیں، الغر ض بڑی رونق رہی۔رات دن باغ کے مالی پہرہ دیتے رہے۔ کیا مجال کہ کوئی چور اچکا گھس آئے، وہیں دیگیں پکتیں اور وہیں سب کھاتے۔
کبھی کبھی اتفاقی طور پر بھی نانا ابّا باغ پہنچ جا تے تھے، مالی ہندو تھے، دروازے میں گھستے ہی آواز دیتے ’جیون ہوت‘ مالی بھاگا بھاگا آتا ساتھ ساتھ کوٹھی تک جاتا، فوراً چلم بھرتا۔ کیلے کا پتہ کاٹ کر اس کے ا وپر چلم رکھ کر حاضر کرتا، ڈنڈی میں ایک طرف شگاف لگا دیتا، جہاں سے قش لگایا جاتا۔ بڑا ٹھنڈا ٹھنڈا دھواں منہ میں جاتا۔
اگر کبھی کھانے کا وقت ہوا اور شہر تک جانے کا وقت نہ ہوا تو مالی جو وہاں ہی رہتے تھے ان کے پاس آٹا اورمسالے تو ہوتے ہی تھے، فوراً گرم گرم روٹی پکائی، آڑو، لوکاٹ، کمرق توڑ کر لائے ان کے کچالو بنائے، کیلے کے پتے کو دھویا اور روٹی اور کچالو سامنے رکھ دئیے، ہنڈیا پکانے کی ضرورت ہی نہیں پڑتی تھی۔
دو باغ اور بھی تھے، کو کی والا اور بانسوں والا۔ یہ سادھوڑا کلاں میں واقعہ تھے، وہاں تک سڑک نہیں تھی اسلئے اکثر فدائی خاں ہی جایا کرتے تھے۔ وہاں کا ٹھیکیدار اور مالی بلاقی داس تھا۔ ان دونوں باغوں کے مالی کئی پشتوں سے یہ خدمت انجام دے رہے تھے۔ بڑی باقاعدی سے آکر قسطیں ادا کرتے تھے، حکیم صاحب نے بہت کم قیمت پر ان کو ٹھیکہ دے رکھا تھا، مالی بہت مطیع و فرما بردار تھے، تقسیم ہند کے بعد بھی گھر پر آکر قسط دے جاتے۔ دلّی میں تقسیم ہند کے بعد جب قتل عام ہو رہا تھا مالیوں نے کبھی ناغہ نہیں کیا۔ حکومت ہند نے جب مسلمانوں کی جائدادوں پر قبضہ کرنا شروع کیا تو انہوں نے ہی گوا ہی دی کہ مالکان پاکستان نہیں گئے بلکہ دلّی میں ہی ہیں۔
فدائی خاں باغ میں جیسا کے اوپر آیا ہے نہر سعادت خاں سے پانی آتا تھا، اگر کسی وجہ سے نہر سے پانی نہ آئے تو وہاں کنواں مو جود تھا جن سے درختوں کو سیراب کیا جا سکتا تھا۔ باغ میں دو کنویں تھے، ایک باغ کے وسط میں اور ایک دروازے کے قریب، ان کا پانی بہت ٹھنڈا اور ہاضم تھا۔ گرمیوں میں ڈول بھر کر ڈالو تو پھریری آجاتی تھی، ہاضم اتنا کہ ابھی کھانا کھا یا ابھی ہضم، پھر بھوک لگ آتی تھی۔ دن بھر کھا ئے چلے جاؤ کسی قسم کی گرانی محسوس نہیں ہو تی تھی۔ یہ کنویں کھلے ہوئے تھے اور ان پر بڑے بڑے درخت چھا گئے تھے۔ درختوں کے پتے ان میں گرتے رہتے تھے جس کی وجہ سے پانی میں بو ہو گئی تھی۔ نانا ابّا کہتے تھے ناک بند کرو اور پی جاؤ، کیا مجال جو ذرا بھی پانی نقصان کرے۔
برسات شروع ہونے کے بعدباغ میں قیام نہیں کر سکتے تھے، ادھر چھینٹا پڑا اُدھر باغ سے روانگی کی تیاری شروع کی۔ بارش ہوتے ہی ہزاروں کیڑے مکوڑے نکل پڑتے تھے، سانپوں کا بھی ڈر رہتا تھا۔ باغ میں حبس ہو جاتا تھا، رات کو لال ٹین جلاکر دور رکھ دیتے تھے، اس پر ہزار ہا پروانے جمع ہو جا تے تھے اور صبح کو مردہ پروانوں کا ڈھیر لگا ہوتا تھا۔ کھانا مغرب سے پہلے کھا لیتے تھے مغرب کے بعد پروانے کھانا کھانے نہیں دیتے تھے۔
برسات میں قطب صاحب چلے جاتے، وہاں حکیم جی کا مکان تھا۔ قطب صاحب دلّی سے گیارہ میل پر ہے اور نہایت عمدہ کھلی آب و ہوا ہے، صبح اذانوں کے وقت رام لعل سائیس دو پیہ گاڑی تیار کرکے آواز دیتا کہ گاڑی تیار ہے۔ اسی وقت ٹھنڈے ٹھنڈے روانہ ہو جاتے اور سات بجے مطب میں پہنچ جاتے، کیا مجال کہ کبھی مطب ناغہ ہوا ہو۔ کبھی ہم کہتے کہ ہم بھی چلیں گے تو ہماری وجہ سے کچھ دیر رک جاتے اور ہم کو ساتھ لیکر آتے، کیسا اچھا وقت ہوتا تھا، جنگل کی ٹھنڈی ہوا ، گھو ڑی اڑی چلی جاتی تھی، ہوا سے باتیں کرتی، بڑے مزے میں دلّی پہنچ جاتے۔
نانا ابّا کے پاس ایک نہایت عمدہ ابلق گھوڑی تھی اسکا نام چمپو تھا، کافی عرصے تک ان کے پاس رہی، بہت تیز جاتی تھی، کسی گھوڑے کو آگے نکلنے نہ دیتی تھی، مشہور تھا کہ اس سے آگے کوئی گھوڑا نہیں جا سکتا۔ نانا ابّا شام بعد نماز عصر سیر کے لئے جایا کرتے تھے۔ رام لعل دو پیہ گاڑی جوت کر لاتا، چمپو کی لگام سامنے سے کھڑے ہو کر پکڑے رہتا، گھوڑی کو معلوم تھا مجھے کون چلائے گا، ادھر نانا ابّانے پا ئیدان پر قدم رکھا اور اُدھر وہ ہوا ہوئی، اس میں پیچھے سائیس کے کھڑے ہونے کی جگہ تھی، وہ وہاں کھڑا رہتا اور ہٹو بچو کی آواز لگاتا رہتا تھا۔ اگر کسی اور کے ہاتھ میں لگام ہوتی تو اتنا تیز نہیں بھاگتی تھی، نانا ابّا چلاتے بھی تیز تھے، ہم ان کے ساتھ بیٹھتے ہوئے ڈرتے تھے، کئی مرتبہ ایسا ہوا کے تیز رفتاری سے ڈر کر میں نے لگام پر ہاتھ ڈال دیا تو نانا ابّا کہتے ’ میاں کیا کرتے ہو‘ لیکن رفتار وہی رہتی۔ بھا ئی جان بھی ان کے ساتھ بیٹھتے ہوئے ڈرتے تھے۔ اگر زیادہ آدمیوں کو کہیں جانا ہوتا یامستورات جاتیں تو بڑی گاڑی جتواتے، جو چار پہیہ تھی اور اس میں پردے کا بھی انتظام تھا۔ اس وقت رام لعل سامنے سیٹ پر بیٹھ کر گاڑی چلاتا، تو گھوڑی بڑے اطمینان سے چلتی۔ ایک اور بڑی گاڑی لینڈو تھی جس پر ٹب ہو تا تھا، وہ کھلی ہو تی تھی، جب صرف مردوں کو جانا ہوتا تو وہ جوڑی جاتی تھی، بڑھاپے میں خود گاڑی چلانی چھوڑ دی تھی اس وقت لینڈو میں ہی سیر کے لئے جایا کرتے تھے اور جو کوئی اور جانا چاہتا اس کو بٹھا لیا کرتے تھے، عام طور پر بچے ہی جایاکرتے تھے، زیادہ تر جامع مسجد جاتے، وہاں پہنچ کر اترتے اور دکانوں کی سیر کرتے۔ جامع مسجد کے چٹخا رے کھاتے اور سب کو کھلاتے، سودا سلف خرید تے، شام واپسی ہو تی۔ ایک دو مرتبہ ہمارے کہنے پر قدسیہ باغ اور نکلسن پارک بھی گئے مگر ان کا دل وہاں نہیں لگتا، ان کو ایسی جگہیں پسند تھیں جہاں چہل پہل ہو، دکانیں ہوں، سودے والے ہوں، کچھ کھائیں، کچھ پئیں، کچھ خریدیں۔ کبھی صبح صبح منڈی چلے جاتے۔ خربوزوں کے زمانے میں خربوزے، تربوز اور آموں کے زمانے میں آم کی ڈھیریاں خرید لاتے۔ اس زمانے میں ڈھیر یاں نیلام ہوا کرتی تھیں، اتنے لاتے کہ سارا دالان بھر جاتا، تھوڑی چیز خرید نا ان کو پسند نہ تھا۔
محلے والے اور جان پہچان والے شادی کے لئے گھو ڑی مانگنے آتے تو بڑی خوشی بغیر معا وضے کے دیا کرتے تھے۔ اسی طرح بارات بٹھانے کے لئے دیوان خانے کی بھی بخو شی اجازت دیتے، خو دصحن میں کرسیاں ڈال کر مطب کرتے تھے۔ سینکڑوں شادیاں اس دیوان خانے میں ہوئیں۔ دیوان خانے کے سامنے صحن میں حوض اور اس میں فوّا رہ تھا اس کے دونوں طرف کیاریاں تھیں، ایک طرف نل لگا ہوا تھا۔ سارے محلے والے جن کے ہاں نل نہیں تھے پانی بھر بھر کر لے جاتے تھے۔
جب موٹروں کا زمانہ آیا تو ایک بے بی آسٹن خرید لی تھی، اس کےڈرا ئیور کا نام مو ہن تھا، ہر وقت حاضر رہتا، دور جانا ہوتا تو مو ٹر میں جایا کرتے تھے، مجھے یاد ہے اس زمانے میں پٹرول سوا روپے گیلن تھا۔ شہر کے اندر ملنے یا شادی بیاہ کی تقریب میں جانا ہوتا تو پیدل ہی جایا کرتے تھے۔
سپہ دار خاں ان کا دروغہ تھا، جائداد کا کرایہ وہی وصول کرتا، جائداد کی دیکھ بھال، ٹیکس کا جمع کرانا اسی کے ذمے تھا، صبح کو مطب میں حاضر رہتا،
مریضوں کو دوائیاں دیتا رہتا۔ دوائیاں بناتا بھی تھا، دلچسپ آدمی تھا، مطب کے بعد بیٹھ کر لطیفے سنایا کرتا تھا، کچھ لو گوں کو چھیڑا بھی کرتا تھا۔ نماز روزے کا پابند تھا، نقشبندی سلسلے کے مولوی محمد عمر جو اخوند صاحب مشہور تھے،سے بیعت تھا، عام طور پر نیلی تہمد باندھے رہتا تھا۔ ربیع الاول میں اپنے گھر پر نیاز دلواتا اور بڑے زور کی دعوت کرتا تھا۔ نانا ابّا نے اس کو رہنے کے لئے مکان دیا ہوا تھا، تنخواہ الگ ملتی تھی کثیر العیال آدمی تھا، کچھ مطب میں سے بچا کر لے جاتا تھا، کچھ لوگوں نے نانا ابّا سے شکایت کی کہ جو دوائیاں بیچتا ہے اس میں سے خود بھی رکھتا ہے، نانا ابّا نے کہا مجھے معلوم ہے تنخواہ میں اس کا گزارہ نہیں ہوتا، لیکن مطیع فرما بردار ہے اس لئے میں درگذر کرتا ہوں۔نانا ابّا کے ہاں جو نذر نیاز ہوتی تھی اس کا انتظا م بھی دروغہ سپہ دار کے ہاتھ میں تھا۔ دو مرتبہ حج بھی کرچکا تھا۔ ایک دفعہ نانا ابّا ہی نے نانی ا مّاں کی طرف سے اسے حج بدل کرایا تھا۔اس کے بیوی بچے بھی یہاں ہی رہتے تھے۔
ویسے مطب میں اور بھی کئی کام کرنے والے داروغہ کا ہاتھ بٹایا کرتے تھے، مجھے عبدالرحیم، عبداللہ اور فاطمہ خانم یاد ہیں۔
نانا ابّا جلال الدین بخاری کی نیاز بڑی دھوم دھام سے دلوایا کرتے تھے، تقریباً نو من دودھ کی کھیر پکتی، کونڈوں میں سجائی جاتی، دیوان خانے میں، جب تک بجلی نہیں آئی تھی تو موم بتیوں اور بعد میں جھاڑ فانوس اور ہنڈیوں کی روشنی ہوتی،دیوان خانہ بقہ نور بن جاتا، صحن چبوترے پر فرش ہوتا، تمام عزیروں، رشتہ داروں اور محلے والوں کو مدعو کیا جاتا، ہر ایک کو آنے کی عام اجازت تھی محلے کے تمام غریب غرباء کثیر تعداد میں آجاتے، مغرب کی نماز پڑھ کر اخوند صاحب نیاز دیتے اور پھر کھیر کھلا نا شروع ہوتی۔ محلے کے بچے بڑا تماشہ کرتے ایک کونڈے کے چاروں طرف بیٹھ جاتے اور اس پر پل پڑتے۔ کسی کے منہ پر کھیر کسی کے دونوں ہاتھ میں کھیر، کسی کے بال کھیر سے لپٹے ہوئے، بس چند منٹ میں صاف کر جاتے۔اس طرح کئی کونڈے ختم ہو جاتے۔ جب مرد کھا چکتے تو دیوان خانے میں پردہ کرایہ جاتا اور خواتین کو بلایا جاتا اور یہ سلسلہ رات گئے تک جاری رہتا۔
نانا ابّا نے دو حج کیے، پہلا حج کے لئے روانگی ۲۳ نوئمبر ۱۹۰۶ کو اپنی والدہ شمس النساء بیگم کے ساتھ، جدہ پہنچ کر خط لکھا کہ اب مکہ معظمٰی جا رہا ہوں، سب کی خیریت دریافت کی نہ صرف مولوی محمد عمر (اخوند صاحب ) نقشبندی کو آداب عرض لکھا ، جن سے ان کو عقیدت تھی بلکہ، عزیزوں، رشتہ داروں، دوستوں، محلے والوں اور اپنے نوکروں کو بھی نہیں بھولے، جیسے استاد محمدی جو ان کے کبوتروں کی دیکھ بھال کیا کرتے تھے۔
دوسرا حج غالباً ۱۹۳۰ میں کیا اس کی تفصیل دلچسپ ہے۔ مولوی محمد عمر اخوند جی کا انتقال ہو چکا تھا۔ ان کی جگہ ان کے بھتیجے مولوی محمد مختار جانشین ہوئے تھے اور وہ حج کو جا رہے تھے، معتقیدین ان کو دلّی ریلوے اسٹیشن پر سوار کرانے گئے، نانا ابّا بھی ہاتھ کی لکڑی لے کر پہنچ گئے، اور کوئی سامان ساتھ نہ تھا، ریل روانہ ہوئی تو وہ بھی ان کے ساتھ بیٹھ گئے اور حج کے لئے روانہ ہو گئے، کسی سے ذکر تک نہ کیا، بس ایکا ایک ہی ارادہ ہو گیا۔ میں اور بھائی جان شام کو ٹہل کر گھر واپس آ رہے تھے، محلے والا جو بھی ملتا کہتا کہ بڑے حکیم صاحب حج کو گئے، میں نے نانی امّاں سے جا کر پو چھا تو انہوں نے کہا مجھے علم نہیں، مجھ سے دو ہزار روپے لے کر گئے ہیں کہ اخوند صاحب کو دونگا وہ حج کو جا رہے ہیں میں نے ان کے دروغہ سے جا کر پوچھا کہ وہ ان کے ساتھ ریلوے اسٹیشن گیا تھا، جب اس نے کہا کہ یہ سچ ہے پھر یقین آیا۔ اس زمانے میں معمولی آدمی ڈھائی سو روپے میں حج کر لیتا تھا، چار سو میں تو بڑی فراخدلی اور آرام سے ہو جاتا تھا۔ اُس زمانے میں حج کے لئے درخواستیں نہیں دینی پڑتی تھیں، پاسپورٹ اور ویزا کی کاروائی بمبٰئی میں حج کمیٹی کر دیتی تھی، نہ ایکس چیج کا جھگڑا، جی چاہے جتنے روپے لے جاؤ۔ وہی روپیہ مکہ مدینہ میں رائج تھا، اگر اور روپے کی ضرورت ہوتی تو حاجی علی جان، جن کا دلّی اور مکہ میں کاروبار تھا، کے ہاں پیسے جمع کرا دیتے جو مکہ میں حاجی کو مل جاتے۔
نانا ابّا جب حج کرکے واپس آئے تو ہم نے ان سے پوچھا کہ آپ نہ بستر لے کر گئے، نہ سامان خرد و نوش، بس ہاتھ کی لکڑی لے کر ریل میں بیٹھ گئے؟ کہنے لگے کسی چیز کی کمی محسوس نہیں ہو ئی، کپڑے میلے ہوئے فقیر کو دے دئیے، نئے خرید لیے، چار آنے بَدّوکو دیے اس نے وضو کروادیا، ایک روپے میں وہ نہلا دیتا تھا، بستر وغیرہ بمبٰئی سے ساتھ لے لیا۔ ساتھ میں عبدالرحمٰن نامی محلے کا بڑھی بھی ساتھ تھا اس کی مدد سے بحری جہاز پر اچھی جگہ مل گئی۔ اس نے پہلے پہنچ کر جگہ بنا لی۔
نانا ابّا اچھے حافظ قران تھے، نانی امّا ں کو بھی قران یاد تھا، بہت بچے بچیاں ان کے پاس قران شریف پڑھنے آیا کرتے تھے، بہت سے بچوں نے پورا قران شریف یہاں ہی ختم کیا تھا اور وہ ان کو استانی جی کہا کرتے تھے، نانا ابّا رمضان شریف آ ّنے سے پہلے نانی امّاں کو قران شریف سنایا کرتے تھے، محلے والوں کا ایک وفد ں نانا ابّا کے پاس آتا اور درخواست کرتا کہ آپ قران شریف اپنی مسجد میں سنائیں، بڑی دور دور سے لوگ تراویح میں قران شریف کی تلاوت کو آتے، پورے مہینے مسجد میں رونق رہتی، خوب چراغاں ہوتا۔ نانا ابّا تراویح کے وقت صافہ باندھا کرتے، ختم کے دن صرف پاؤ سپارہ پڑھتے، ختم کے لئے لوگوں کو بلاوے جاتے، ختم کے بعد دعا ہوتی، مٹھائی تقسیم ہوتی، داروغہ سپہ دار مٹھائی تقسیم کرتا۔ ہر مہینے دیوان خانے میں گیارویں شریف ہوتی، اس کا انتظام بھی داروغہ ہی کرتا اور یہاں بھی شیر ینی تقسیم ہوتی، یہی معمول بزرگوں کی سالانہ فاتحہ کا بھی تھا۔
نانا ابّا بڑے پائے کے حکیم تھے، عربی ، فارسی کی تعلیم حاصل کرکے طب کی تعلیم اپنے والد حکیم بدرالدین سے پڑھی تھی اور پھر اس زمانے کے جید عا لم و طبیب حکیم غلام رضا خاں کے پاس مطب شروع کیا۔ نانا ابّا کی تشخیص و تجویز بڑی اچھی تھی، والد کے انتقال کے بعد ان کے جانشین ہوئے، کامیابی سے مطب کیا، نیک نامی اور شہرت حاصل کی۔ صبح سویرے مطب میں بیٹھ جاتے، مردوں سے دالان بھرا رہتا، عورتوں کی ڈولیوں کی قطار صحن چبوترے پر لگی رہتی، کبھی نسخہ خود لکھتے، کبھی بول دیتے تو شاگرد لکھتے جاتے تھے، ان کے پاس دو بڑے صندوقچے سامنے رکھے رہتے تھے جن میں خاص دوائیاں ہوتی تھیں، ضرورت سمجھتے تو اپنے پاس سے دوائیاں دیتے ورنہ عام طور پر داروغہ دوائیاں دیتا رہتا تھا۔ جب کوئی بھنگی یا بھنگن نبض دکھانے ّتے تو وہ ایک طرف صحن چبوترے پر بیٹھے رہتے، جب سب مریض ختم ہو جاتے تو اس کی نبض دیکھتے، حال سنتے اور نسخہ لکھواتے، خادم فوراً صابن، تولیہ لیکر حاضر ہوتا، اس زمانے میں طہارت اور صفائی کا بہت خیال رہتا تھا۔ ہر قسم کے مریض ان کے مطب میں آتے تھے، امیر غریب، رئیس اور والیان ریاست، سب سے برابرانہ پیش آتے۔ دلّی میں مریضوں کو دیکھنے جاتے تو کوئی فیس نہ لیتے، خواہ کتنا ہی بڑا آدمی ہو، جب کو ئی والی ریاست دلّی سے باہر بلاتا تو سفر، رہائش، خرد و نوش کا انتظام کرتا اور جتنے روز قیام ہوتا روزانہ کے حساب سےرقم پیش کرتا۔ بعض رئیسوں نے علاج سے خوش ہو کر ماہانہ مقرر کردیا تھا اور جب بلاتے تو نذرانہ الگ پیش کرتے۔ دلّی میں جو بھی بلاتا اس کے گھر چلے جاتے، چاہے وہ کسی بھی علاقے میں رہتا ہو ، چاہے امیر ہو کہ غریب، مگر طوائفوں کے ہاں جانے کی ان کی ہمت نہیں پڑتی تھی۔ ایک مرتبہ ایک مالداراور پایہ کی طوائف نے اپنا آدمی بھیجا ، انہوں نے وعدہ تو کر لیا، جامع مسجد جاتے ہوئے چاوڑی بازار سے گزرے مگر گاڑی روک کر اوپر جانے کی ہمت نہیں ہو ئی۔ دو تین مرتبہ اس کا آدمی آیامگر جا نہیں سکے۔ آخر کار وہ خود مطب میں حاضر ہوئی اور شکا یت کی تو صحیح بات کہہ دی، وہ ہنسی اور نسخہ لکھواکر لے گئی۔ یہ طوائفیں صحت یاب ہونے کے بعد خود درخواست کرکے گھر پر آکر اپنے فن کا مظاہرہ محفلوں میں کرتیں، جب بھی محفل ہوتی تو سپہ دار خاں کو بھیجتے کہ محمود میاں کو بلا لاؤ۔ میں بادل نا خواستہ بار بار بلانے پر جاتا تو دیکھتا، دالان بھرا ہوا ہے،دوست احباب جمع ہیں، دیوان خانہ بقہ نور بنا ہوا ہے، مسند گاؤ تکیہ لگائے نانا ابّا بیچ میں بیٹھے ہوئے ہیں، میں تھوڑی دیر بیٹھتا پھر دالان میں جا کر سو جاتا۔
دلّی کے دوسرے حکیم بھی ان کے پاس اپنے مریضوں کو لاکر دکھایا کرتے تھے اور مشورے کیا کرتے تھے، کچھ حکیم ان کے پاس نسخے پوچھنے آیا کرتے تھے ۔
میں آٹھویں جما عت میں پڑھتاتھا، میرے فم معدہ میں درد شروع ہوا، پہلے ہلکا ہلکا تھا اور خلو معدہ میں ہوتا تھا، پھر آہستہ آہستہ بڑھتا گیا اور اتنی شدت اختیار کر لی کہ میں چیختا تھا، کھاؤ تو درد ، نہ کھاؤ تو درد، میرے والد علاج کرتے رہے، کوئی فائدہ نہ ہوا، کئی نسخے کتابوں میں تلاش کرکے تجویز کئے مگر سب بے کار، ہمارے ایک عزیز حکیم محمد حیات خاں صاحب جو بہت اچھے طبیب تھے اور وسط ہندستان، خاص طور پر بہار میں ان کی شہرت تھی دلّی آئے ہوئے تھے ان سے مشورہ کیا، انہوں نے بہت سی دوائیوں کو ملوا کر روٹی پکوائی اور وہ معدے پر بندھوائی گئی، کئی روز یہ علاج ہو تا رہا مگر مرض میں کو ئی افاقہ نہ ہوا۔نانا ابّا کو خبر ہوئی، عصر کے وقت وہ آئے، میں صحن میں لیٹا ہوا تھا، میری چار پائی کے پاس کرسی پر بیٹھ گئے، پو چھا میاں کیا ہوا۔ میں نے سب حال مفصل بیان کیا، چپکے بیٹھے سنتے رہے، پھر کہا، کھانے کا چمچہ لاؤ، مقطر کی شیشی لاؤ، شیشی چمچے میں الٹ دی، کہا منہ
کھو لو اور اپنے ہاتھ سے چمچہ میرے حلق میں الٹ دیا۔ دوا کا حلق سے اندر جا نا اور درد کا غائب ہونا، اس کے بعد الحمد اللہ رخسانہ اس کے بعد درد نہیں ہوا۔
ضلع اٹاوہ میں ایک بڑے رئیس، جاگیر دار علاقہ ساماں تھے ان کے گردے میں درد تھا، بہتیرے علاج کیے، کسی سے فائدہ نہیں ہوا، آخر کار انہوں نے نانا ابّا کو بلوایا، اس وقت یہ حالت تھی کہ ان کے بچنے کی امید نہ تھی، نانا ابّا نے علاج کیا اللہ تعالیٰ نے شفا دی، وہ اتنے متاثر ہوئے کہ نانا ابّا کا مہینہ مقرر کر دیا جو تا حیات برابر آتا رہا۔
نانا ابّا اپنے زمانے میں دلّی کے سینئر طبیب تھے، بڑے بڑے اسمبلی کے ممبر ان کا علاج کرانے آتے تھے اور ان کے معتقد تھے، جن لوگوں کو ہم نے آتے دیکھا ان میں مولوی سید مرتضٰی بہادر، ایم ایل اے مدراس، اور شفیع داؤدی، صوبہ بہار شامل تھے، نئی دلّی کا چیف انجینیر بھی ان کا ہی علاج کراتا تھا۔ شریف خانی خاندان کے چشم و چراغ حکیم محمد اجمل خاں جنہوں نے سیاست کی وجہ سے بے حد شہرت پائی ان سے جو نئیر تھے، نانا ابّا حکیم غلام رضا خاں کی بہت تعریف کیا کرتے تھے اور ان کے مداح تھے، دوسرے حکیم جن کی تعریف ان سے سنی وہ حکیم غلام کبریا خاں عرف بھورے میاں تھے، جب بھورے میاں کا انتقال ہوا تو ان کو بیحد صدمہ پہنچا، بار بار کہتے تھے بھورا کیسے مرگیا، کافی عرصے تک ہم نے یہ الفاظ ان کہ منہ سے سنے۔ حکیم بھو رے میاں اپنی والدہ کے انتقال کے تین دن بعد اللہ کو پیارے ہو گئے تھے، خاصے اچھے مطب کر رہے تھے، مطب کرتے کرتے فرش پر تڑپنے لگے، تھوڑی دیر میں ٹھیک ہو گئے اپنی گدی پر بیٹھ کر پھر مطب کرنے لگے، چند منٹ بعد پھر تڑپنے لگے اور انتقال کر گئے۔
نانا ابّا خواجہ خواجگان، سلطان الہند خواجہ غریب نواز حضرت معین الدین چشتی ؒ سے عقیدت رکھتے تھے۔ اِدھر رجب کا چاند دیکھااُدھر اجمیر شریف روانہ ہوئے، ان کے کریہ میں ایک قلی رہتا تھا، اس سے کہہ دیتے، وہ صبح ہی آکر بستر اور سامان وغیرہ لے جاتا، ٹکٹ خرید تا ریل گاڑی بی بی اینڈ سی آر میں ایک چھوٹے ڈبّے میں لیجا کر سامان رکھ دیتا اور باہر سے بند کرکے خود باہر بیٹھا رہتا، گاڑی نو بجے اجمیر کے لئے روانہ ہوتی تھی، نانا ابّا روانگی سےتھو ڑی دیر قبل ہاتھ میں لکڑی لئے ہوئے اسٹیشن آجاتے اور کوئی مغرب کے وقت اجمیر شریف پہنچ جاتے تھے۔ جس سرائے میں نا نا ابّا ٹھہرتے اس کا بڑا سا پھاٹک تھا، اس کے اوپر ایک کشادہ کمرہ جس کا ایک دروازہ سڑک کی طرف پھاٹک کے او پر کھلتا تھا، اس کے آگے برامدہ تھا، ہم وہاں بیٹھ کر دن بھر بازار کی رونق دیکھا کرتے تھے، نیچے دکا نیں، تماشے والے، مداری آتے جاتے رہتے تھے۔ درگاہ پر حاضری کے لئے نانا ابّا ہم کو ساتھ لے جاتے، اجمیر میں بھی ان کے پاس مریض آتے رہتے تھے۔ عرس ختم ہو نے پر وہاں سے دلّی واپس آتے، اس دوران بھائی جان ان کی جگہ مطب کرتے تھے۔
عید اور بقرَعید پر ہم علی الصبح نہا دھوکر نانا ابّا کے پاس آجاتے، انہی کے ساتھ نماز پڑھنے جاتے تھے، اس موقعہ پر وہ رام لعل سائیس کو حکم دیتے کہ بڑی گاڑی جوت کر لاؤ اور سب اسی میں بیٹھ کر جاتے تھے، کبھی جامع مسجد اور کبھی عید گاہ، واپسی پر وہ ہم کو کھلونے دلواتےتھے، گھر آکر دیوان خانے میں ان کی نشست رہتی صدر دالان میں اندر گاؤ تکیے لگاکر بیٹھتے، قالینوں کا فرش ہوتا، محلے والے، رشتے دار، دوست آشنا، سب عید ملنے آتے، عید کی مبارک بعد پیش کرتے، ان کی خا طر تواضع پان اور عطر سے کی جاتی، یہ سلسلہ دوپہر کے بعد تک جاری رہتا، پھر گھر میں اندر آتے، سب ساتھ بیٹھ کر کھانا اور مٹھا ئی کھاتے۔ بقرَعید پر سپہ دار خاں بکرے خرید کر لاتا اور سب کی طرف سے قربانی ہوتی، گوشت سینیوں میں رکھ کر اوپر نانی امّاں کے پاس جاتا اور وہ اس کو تقسیم کرتی تھیں، کئی مرتبہ گائے بھی ذبحہ ہوئی لیکن زیادہ تر بکرے کی ہی قربانی ہوتی تھی۔
نا نا ابّا کے دل میں بے حد خوف خدا، غریبوں کے لئے ہمدردی تھی، محتاجوں اور بے وسیلہ لوگوں کے ساتھ شفقت اور محبت سے پیش آتے، ہر طرح کی مدد کو تیار رہتے، قرض دیتے مگر تقاضہ نہ کرتے، کرایہ داروں کو جو کرایہ ادا نہ کرسکتے تھےکرایہ معاف کردیتے۔
ابا جان کی طرح نانا ابا بھی انگریزی تعلیم کو پسند نہیں کرتے تھے۔ فصیح الدین کو انہوں نے بیٹا بنا رکھا تھا مگر مدرسے میں داخل نہیں کرتے تھے، ہم کہتے کہ ان کو مدرسے میں بٹھا دیجئے تو کہتے کہ ہم کو نوکری تھوڑی کرانی ہے۔ فصیح الدین کو بھی پڑھنے کا شوق نہیں تھا۔ نانا ابا نے ائک استاد کو ملازم رکھ لیا تھا کہ ان کو تعلیم دیں۔ فصیح الدین تختی بھی نہیں لکھتے تھے، ان کو ترغیب دینے کے لئے نانا ابا استاد سے کہتے کہ یہ ایک حرف لکھیں تو ان کو ایک آنہ دیجئے گا۔ کچھ عرصے بعد ہمارے اصرار پر مدرسے میں بٹھا دیا تھا، میں نے ان کو تھوڑا سا گھر پر پڑھا دیا اور ان کو ْاسم جان کی گلی میں عربک اسکول کی شاخ میں دوسری جماعت میں داخل کردیا۔ چھ جما عتوں تک انہوں نے پڑھا، پھر پڑھنا چھوڑ دیا، کچھ عرصے بعد طبیہ کالج میں داخل ہوئے اور وہاں سے فارغ التحصیل ہو کر طبیب بنے۔ نانا ابا کی صحبت کی وجی سے تشخیص و تجویز میں بہت اچھی مہارت حا صل ہو گئی، نانا ابا کے بہت سے چٹکلے ان کو معلوم ہیں اور اچھا علاج کرنے لگے ہیں۔
نانا ابا اور ابا جان کت بہت اچھے تعلقات تھے آپس میں ایک دوسرے سے بہت محبت کرتے تھے، ہمارے یہاں آتے تو مرزا صاحب کہہ کر آواز دیتے، ابا جان کے انتقال کے بعد بھائی نوشہ مرزا کہتے پھر ان کے انتقال کے بعد محمد علی بیگ کہکر آواز دینی شرو ع کی، پھر خود ہی ختم ہو گئے۔
ان کا انتقال ۱۹۳۵؁ میں ہوا۔ حق مغفرت کرے عجب آزاد مرد تھا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *