Safar Hyderabad Dukkan ka

سفر ریاست حیدر آ باد دکن ۱۹۳۳

مصنف: محمود علی بیگ ۱۹۸۱
مرتب: حسن علی بیگ
حکیم قاسم علی خاں صاحب ہمارے والد کے پھپی زاد بھائی تھے، سب گھر میں لوگ ان کو بھائی صاحب کہا کرتے تھے، وہ بڑے اچھے حکیم تھے، ان کے پاس بڑے مجرّب نسخے تھے ۱۹۳۳ ؁ میں وہ اورنگ آباد میں مطب کرتے تھے، میں کالج میں پڑھتا تھا، جون جولائی کی چھٹیوں میں والد گرامی اور میں ان کے پاس دلّی سےاورنگ آباد گئے۔ میرے والد مجھے پہنچانے گئے تھے ۔ ہم نے جی آئی پی(۱۲)سے سفر کیا۔ اس زمانے میں ریل میں بھیڑ نہیں ہوتی تھی، لوگ بہت کم سفر کرتے تھے، ڈبے کے ڈبے خالی تھے، سیٹوں پر ہم نے بچھونا بچھالیا اور لیٹتے بیٹھتے آرام سے سفر کرتے رہے۔ چلتے وقت ہم نے کھانا اپنے ساتھ لے لیا تھا۔ راستے میں وہ ختم ہوگیا، ہندو کھانا، مسلمان کھانا الگ الگ آواز دے کر پھیری والے اسٹیشنوں پر بیچا کرتے تھے، بھائی جان ( والد)نے کہا پوری کچوری لے لو اور کچھ مٹھائی لے لو یہ مناسب رہے گامگر میں نے مسلمان کھانا بیچنے والے سے قیمہ اور پراٹھے خرید لیے، وہ اتنے خراب اور بد مزہ تھے کہ ہم کھا نہ سکے اور پھینکنے پڑ گئے۔ اگلے اسٹیشن پر ہم نے پھر وہی پوری ،کچوری اور مٹھائی خریدی اور وہ استعمال کی۔
راستہ خوشگوار گزرا خاص طور پر ریاست بھوپال کا علاقہ بڑا سر سبز اور شاداب تھا، ہر جگہ سبزہ ہی سبزہ تھا، پہاڑیاں راستے میں آئیں وہ نیچے سے اوپر تک درختوں سےپٹی پڑی تھیں۔ ایک دو پہاڑیوں پر نیچے سے اوپر تک راستہ بنا ہوا تھا اور اوپر مندر معلوم ہو تا تھا، الغرض اسی طرح راستے کا لطف اٹھاتے ہوئے صبح اذانوں کے وقت منماڑ جنکشن( ۱۳) پر پہنچے، ہم یہاں اترے کیونکہ اب ہم کو اورنگ آباد جانے کے لئےنظام اسٹیٹ ریلوے سے سفر کرنا تھا، ہم نے ٹکٹ خریدے اور قلی نے جنگلے کے دوسری طرف پلیٹ فارم پر لے جا کر نظام اسٹیٹ ریلوے میں بٹھا دیا۔ اس وقت تک روشنی اچھی طرح نہیں ہوئی تھی، اندھیرا تھا، وہ ریل کچھا کچھ بھری ہوئی تھی، صرف بیٹھنے کی جگہ ملی، وہاں سے اورنگ آباد زیادہ دور نہیں تھا، صبح نو بجے اورنگ آباد پہنچ گئے۔ پلیٹ فارم پر جو نظر پڑی تو کچھ فوجی بندوقیں لیے وہاں کھڑے تھے ، کالے کالے، سوکھے سوکھے، چہروں کی ہڈیاں نکلی ہوئی، ڈھیلی ڈھالی پتلونیں پہنے ہوئے، ٹخنوں سے گھٹنوں تک پٹیاں بندھی ہوئی اور اوپر گھیر نکلا ہوا، ہاتھوں میں بھر مار بندوقیں جن میں گز لگا ہوا تھا۔ یہ وہ بندوقیں تھیں جو غالباً جنگ آزادی ۱۸۵۷سے پہلے فوجی استعمال کرتے تھے۔ اس میں بارود بھرتے تھے، پھر چھرے ڈالتے اور گز سے ٹھونکتے، پھر ان کو چلا تے۔ ایسا معلوم ہوا کہ ایک سو سال قبل کی دنیا میں پہنچ گئے ہوں(۱) ۔اس میں ریاست کا قصور نہیں تھا، انگریز ریاستوں کو جدید اسلحہ دیتے نہیں تھے، خوف تھا کہ بغاوت کرکے آزاد نہ ہو جائیں، اپنے ہاں کا بیکار اور ردی سامان ریاستوں کے ہاتھوں فروخت کر دیتے تھے، یہ اسی طرح کی بات ہے جیسے آج کل برطانیہ اور امریکہ مسلمان ملکوں کو جدید اسلحہ نہیں دیتے۔ اسی طرح ہند ستانی ریاستوں کی بھی مجبوری تھی، حیدر آباد پر ہی کیا منحصر جتنی بھی ریاستیں تھیں خواہ وہ ہندو ہوں یا مسلمان سب کا یہی حال تھا، انگریز ان ریاستوں پر کڑی نظر رکھتا تھا، پولیٹیکل ایجنٹ (۲)اسی مقصد کے لئے رکھے ہوئے تھے۔
بھائی قاسم علی خان اسٹیشن پر معہ چند احباب موجود تھے، ان کا قیام باغ احمد خاں، محلہ شاہ گنج میں تھا، کو ٹھی کے مالک ایک پولیس افسر تھے جو بھائی صاحب کے معتقد تھے، انہوں نے ایک کمرہ، اوربرامدہ وغیرہ ان کو رہائش کے لیے دے رکھا تھا، کو ٹھی بہت وسیع تھی، بڑا صحن تھا، بیچ میں ایک حوض تھا، جس اس میں پانی ملک عنبر کی نہر (۳)سے آتا تھا۔ محلّے کے غریب غربا اس میں سے پانی بھر کر لے جاتے تھے۔ کوٹھی کا انتظام مالک کے بھائی شجاعت علی خاں کے سپرد تھا، یہ بہت با اخلاق آدمی تھے، اورنگ آباد میں کسی دفتر میں ملازم تھے، صبح کا ناشتہ روز ا نہ ان ہی کے ہاں سے آتا تھا، شام کے کھانے پر اکثر بلاتے رہتے تھے۔ ان کے دوست اور اہل محلہ اکثر دعوت کر تے رہتے تھے۔ ان کے ہاں ایسا انتظام تھا کہ بھائی صاحب کو کوخودکھانے کا انتظام بہت کم اور کبھی کبھار کرنا پڑتا تھا۔
اورنگ آباد میں عالیشان مسجدیں (۴)تھیں، مزارات بھی بہت تھےمسجدوں میں بڑے بڑے حوض بنے ہوئے تھے ان میں اسی نہر سے پانی آتا تھا۔ بازاروں میں عوام کی سہو لت کے لئے جگہ جگہ چھوٹے چھوٹے حوض تھے اور نل لگے ہوئے تھے۔
نہر جس ذریعے شہر میں پانی آتا تھا ملک عنبر کی بنائی ہوئی تھی، جس ندی سے شہر میں پانی آتا تھا وہ شہر سے نیچے تھی، شہر بلندی پر واقع تھا، نہر بند تھی، جیسے آج کل بڑے بڑے پا ئپ ہو تے ہیں،صرف اینٹ اور چونے کی بنی ہوئی تھی۔ ایک ایک فرلانگ پر چھوٹا سا مینار بنا ہوا تھا، اسپر پانی چڑ جاتا تھا، پھر نہرمیں بہنے لگتا، اس طرح یہ سلسلہ جاری تھا اور شہر تک پانی اس نہر کے ذریعہ پہنچ جاتا تھا۔ آج تک یہ معلوم نہ ہو سکا کہ ان میناروں میں پانی کس طرح چڑ جاتا ہے، انگریزوں نے ایک مینار کا کچھ حصہ توڑ کر دیکھا تو سوائے اینٹ اور چونے کے کچھ نہ تھا، پھر اس حصے کو چن دیا تو پانی کی رفتار ہلکی پڑ گئی۔ پانی کھولنے اور بند کرنے کا انتظام وہاں کی پست قوم ڈھیر کے ذمہ تھا ، مسلمان اور ہندو دونوں اس انتظام سے مطمٔن تھے کہ یہ ملک عنبر کے زمانے سے چلا آرہا تھا۔
اورنگ آباد میں ہِمرو اور مشرو(۵ ) بنانے کے بڑے بڑے کارخانے تھے۔ یہ کپڑا نہایت عمدہ اور خوبصورت ہوتا تھا، ہاتھ سے بنا جاتا تھا اور بڑی بڑی دور دساور (۶)میں جاتا تھا، ہم نے بھی اس کپڑے کے کئی تھان خریدے اور بطور تحفہ دلّی لے کر آئے۔
بھائی صاحب نے ہمیں اورنگ آباد کی سیر کرا ئی، یہاں بیگم کا مقبرہ ہے جو اورنگزیب (۷) نے اپنی بیوی کی قبر پر بنوایا تھا، یہ تاج محل کی نقل میں بنوایا گیا ہے، اس میں سنگ مرمر صرف ایک گز تک ہے ، باقی چونا استعمال ہوا ہے۔ انجمن ترقی اردو کا دفتر بھی اس مقبرے کے پاس تھا، بعد میں یہ دلّی میں ڈاکٹر انصاری کی کوٹھی میں منتقل ہو گیا تھا۔ اورنگ آباد کے قریب ہی خلد آباد (۸)ہے جہاں ہم کو بھائی صاحب نے بھیجا۔ یہاں آصف جاہ اول اور اورنگزیب کی قبریں ہیں، وہاں ایک بزرگ کا مزار ہے جن کا نام غالباً خواجہ زین الدین ہے۔ یہ اسی احاطہ میں ہے، ایک طرف اورنگزیب کی قبر ایک کھلے چبوترے پر کھلے آسمان کے نیچے واقعہ ہے، لارڈ کرزن نے اس کے چاروں طرف سنگ مر مر کا محجر بنوا دیا تھا، آصف جاہ اول کا مرتد درگاہ کے
قریب ہی ایک کھلی جگہ میں ہے، ان کے قریب ان کے خاندان والوں کی اور بھی کئی قبریں ہیں۔ خلد آباد میں ہم بھائی صاحب کے ایک دوست امین صاحب بلفور (۹)کے ہاں جا کر ٹھہرے۔ دریافت کرنے پر معلوم ہوا کہ بلفور ترکی زبان کا لفظ ہے جس کے معٰنے آبکاری کے ہیں۔ امین صاحب نے ہمیں صبح کا ناشتہ کرایا اور اپنا آدمی ساتھ کردیا جو ہم کو ایلورا (۱۰)کے غار دکھانے لے گیا، خلد آباد سے یہ تقریباً تین میل کے فاصلے پر ایک پہاڑی پر واقعہ ہیں، مہاتما بدہ کے زمانے کے بڑے بڑے عالیشان ۳۴ غار ہیں جو پہاڑ کو کاٹ کر بنائے گئے ہیں، چھت دیواریں، ستون، فرش سب کچھ پہاڑ کا ہے، کوئی اینٹ اس میں باہر سے لاکر نہیں لگائی گئی، یہ دو منزلہ ہیں، مگر کہیں اندھیرا نہیں، روشندانوں کا انتظام بھی پہاڑ کو کاٹ کر کیا گیا ہے۔ ان محلوں میں دیواروں پر پلاسٹر کے اوپر رنگا رنگ تصاویر بنی ہوئی ہیں، پلاسٹر جگہ جگہ سے جھڑ گیا ہے مگر اس پر رنگ آج تک ہزاروں برس کے بعد بھی جوں کا توں موجود ہے۔ پلاسٹر چو نے کاہے اور اس میں سن ملا ہوا ہے ، جس نے اس میں پختگی پیدا کردی ہے، جگہ جگہ مہاتما بدھ کے مجسمے بنائے گئے ہیں۔ ایک غار اتنا بڑا ہے کہ اس میں چھت کے سہارے کے لئے جگہ جگہ ستون بنائے گئے ہیں، معلوم ہوتا ہے کہ یہاں دربار ہو تا ہوگا، ایک وقت میں کئی سو آدمی یہاں جمع ہو سکتے ہیں۔ جگہ جگہ پتھر کی کونڈیاں اور ان کے اوپر لنگ (۱۱) بنا ہوا ہے جو ہندوؤں کا عقیدہ ظاہر کرتا ہے۔ یہ غار بلندی پر واقعہ ہیں ان کے نیچے میلوں سر سبز اور شاداب میدان ہیں، جہاں کھیتی باڑی ہوتی ہے، بڑا پر فضا منظر تھا۔ بھائی صاحب کا ارادہ پھر ہم کو اجنٹا بھیجنے کا تھا مگر اس زمانے میں ندّی میں سیلاب آیا ہوا تھا اس وجہ سے وہاں نہ جاسکے۔
اورنگ آباد میں کچھ عرصہ قیام کے بعد میں اور بھائی جان( والد) حیدر آباد آگئے۔ وہاں ہم نے بھائی فرحت مرزا کو خط لکھ دیا تھا وہ ہم کو لینے اسٹیشن آگئے۔ وہ نام پلی میں رہا کرتے تھے۔ ان کو ایک سرکاری کواٹر ملا ہوا تھا، جو خاصہ بڑا تھا۔
اس زمانے میں حیدر آباد میں سرکاری بینک نہیں تھے، روپیہ خزانوں میں رہتا تھا اور ان پر چاؤش پہرہ دیتے تھے، یہ عربی نسل تھے اور تہمد باندھے تلوار ہاتھ میں لیے کھڑے رہتے تھے۔ فوج اور پولیس کے علاوہ دیگر سول محکمے اچھے تھے، انگریزی علاقوں سے بہتر ان کی حالت تھی، ریاست کی اپنی ریل تھی، ڈاکخانہ تھا، خزانہ تھا، یو نیورسٹی تھی ، ہائی کورٹ اور عدالتیں اپنی تھیں اور اپنا ہی قانون نافذ تھا۔ ریل میں ڈاک خانے کی دو گاڑیاں لگتی تھیں ایک سرخ رنگ کی اور دوسری زرد رنگ کی، سرخ پر برٹش پوسٹ اوفس لکھا ہوتا تھا اور زرد پر ٹپہ خانہ سرکار عا لی۔ ریاست کے اندر خط و کتابت ریاستی ڈاک خانے کے ذریعہ ہوتی تھی، اس کے پوسٹ کارڈ اور لفافے برطانوی پوسٹ کارڈ اور لفافوں سے سستے ہوتے تھے۔ ریاست کے باہر کسی علاقے میں خط و کتابت کرنی ہو تو برٹش پوسٹ کارڈ اور لفافے استعمال کرنے پڑتے تھے۔ ریاست کی ریل کا انتظام بھی بہت اچھا تھا، اور کرایہ بھی کم۔ حیدر آباد کا سکہ بھی اپنا تھا، وہ حالی کہلاتا تھا اور انگریزی سکّے کو کلدار کہتے تھے۔ حیدر آباد کا روپیہ کم قیمت کا ہو تا تھا، حیدر آباد کے سو روپے انگریزی ستّر کے برابر تھے، سب ریاستوں کے سکّے کم تھے سوائے جے پور کے، وہاں کے ایک سو روپے انگریزی سوا سو روپے کے برا بر تھے۔
حیدر آباد کی یو نیورسٹی اعٰلی قسم کی تھی۔ یورپ اور امریکہ کے تعلیم یافتہ لوگوں کی کثیر تعداد وہاں پڑ ھانے پر مقرر تھی۔ تعلیم اردو میں ہوتی تھی، بڑا اچھا انتظام تھا۔ کالج اور اسکولوں کا معیار بھی اعٰلی قسم کا تھا، فیسیں کم تھیں، داخلوں میں دقت نہ ہوتی تھی۔
حیدر آباد کی ہائی کورٹ بھی اچھی تھی، اس کی عمارت عمدہ تھی اور مقدموں کے فیصلے جلد ہوتے تھے۔ ہم حکیم شریف خاں کی شادی میں حیدر آباد گئے تھے تو مرزا فرحت اللہ بیگ نے ہم کو ہائی کورٹ کی سیر کرائی تھی۔ ہائی کورٹ کی عمارت کا گنبد لوہے کا تھا، ٹاٹا کمپنی سے بنوا کر منگوایا گیا تھا۔ ریکارڈ اتنی اچھے طریقے سے رکھا گیا تھا کہ ایک سو سال پہلے کی مثل کی ضرورت ہوتی تو وہ بھی پانچ منٹ کے اندر اندر نکل آتی تھی۔ مرزا فرحت اللہ بیگ نے رجسٹر منگوایا اور کہا اس میں سے جی چاہے جو مثل منگواؤ، چنانچہ ہم نے ایک جگہ انگلی رکھ دی، یہ مثل کو ئی سو سال سے زیادہ پرانی تھی
مگر متعلقہ محرر اس کو بہت جلد لے آیا اور ہمارے سامنے رکھ دی، یہ لال کپڑے میں لپٹی ہوئی تھی۔ مرزا فرحت اللہ بیگ نئی دلّی گئے اور وہاں کے فیڈرل کورٹ کے چیف جسٹس سر مورس کو پر کو حیدر آباد لے کر آئے اور ان کو اپنے ہاں کی کار کرد گی اور انتظام کی تفصیل بتا ئی اور ریکارڈ دکھایا تو اس نے بھی تسلیم کیا کہ تمہارے ہاں عدالت کا انتظام برطانوی عدالتوں سے بہتر ہے۔
حیدر آباد کی تہذیب اور معاشرت الگ تھی۔ شادی بیاہ کے وقت جو کھانا دیا جاتا تھا اس کا انتظام صبح نو بجے سے رات تک ہو تا تھا۔ چار چار آدمیوں کے لئے متعدد چوکیاں فرش پر بچھادی جاتیں تھیں۔ جس وقت بھی فرصت ہو آکر کھا جاؤ۔ دکاندار، ملازمت پیشہ، عدالت جانے والے، کوئی عذر نہیں کر سکتا تھا کہ ہم کو فرصت نہیں تھی، جس وقت بھی کھانے کا عا دی ہے ، آ جا ئے اور کھانا تناول فرما لے۔
وہاں کی زبان کی بھی الگ شناخت تھی، جیسے جی ہاں کو ’جی ہو‘، جاتے وقت اجازت لینے کے لئے ’حاضر ہو تا ہوں‘ کہنا، کسی بات کا اقرار کرنے کے لئے گردن بجائے آگے پیچھے ہلانے کے دائیں بائیں ہلانا، بیٹی کو ’امّاں‘ اور بیٹے کو ’باوا‘ کہنا، جیسے ہاجرہ امّاں، اور باشو باوا وغیرہ۔ مردو کا لباس شیروانی اور ترکی ٹوپی، عورتیں عام طور پر ساڑھیاں باندھتی تھیں۔ کم عمر لڑکیاں تنگ پاجامہ اور کامدار ٹوپی اوڑھتی تھیں، چھوٹے طبقے کے لوگ تہمد باندھتے تھے۔ عورتوں میں پردے کا عام رواج تھا۔ مرد، عورت سب پڑھے لکھے تھے، خوش اخلاق، مگر ریاست میں ملکی اور غیر ملکی کی تمیز زیادہ تھی۔ مسلمان عام طور پر ملازمت پیشہ اور ہندو تاجر تھے۔
نظام الملک آصف جاہ بہادر عثمان علی خاں والئی حیدرآباد دکن بڑے نیک دل اور انصاف پسند حکمراں تھے۔ ان کی ذاتی زندگی بڑی سادہ تھی۔ لباس اور غذا دونوں سادہ، مگر ملکی معملات میں بڑے فراغ دل تھے، یو نیورسٹیوں، دینی اداروں، علماء، سب کو بڑی بڑی رقمیں بطور امداد دیتے تھے، مزاروں کا خرچ اٹھاتے تھے۔ بڑے خوش عقیدہ انسان تھے، اہل بیت سے بیحد عقیدت رکھتے تھے، یہاں تک کہ بعض لوگ ان کو شیعہ کہنے لگے تھے۔ تقسیم ہند کے بعد ان کا انتقال ہوا، انا للہ و انا الیہ راجعون۔
بھائی جان (والد صاحب) وہاں زیا دہ قیام نہیں کر سکتے تھے وہ تین دن ٹہرے اور پھر دلّی واپس چلے گئے۔ میں واپس اورنگ آباد آگیا جہاں میں نے تین مہینے قیام کیا۔
تشریحات:
۱۔ اردو زبان میں ان کو تفنگ اور انگریزی زبان میں یہ بندوقیں’ مسکٹ‘ کہلاتی ہیں، شروع انیسویں صدی میں ان کا نعم البدل را ئفل تھا جس میں کار توس استعمال ہو تا تھا۔
۲۔ دیکھئے کس طرح ایک گورا پوری ریاست، جو عام طور پر کسی یوروپی ملک کے برابر تھی، کو اپنے شکنجے میں رکھتا تھا۔
۳۔ ملک عنبر حبشی، احمد نگر کا مشہور سپہ سالار تھا، جو گو ریلا جنگ کا ماہر تھا۔ مغل حکمرانی دکن میں اس کی وجہ سے بڑی رکاوٹیں پیدا ہو ئیں۔ اس نے وہاں کے ایک گاؤں کھڑکی کی جگہ ایک شہر بسایا جو اورنگزیب عالمگیر کے وہاں مستقل قیام کے بعد اورنگ آباد مشہور ہوگیا۔ وہاں کا نہری نظام بھی ملک عنبر کا ایک یادگار کارنامہ ہے جو اس نے ڈھائی لاکھ روپے میں پندرہ مہینے میں بنوادیا تھا۔ اس کا انتقال ۱۶۲۶ ء میں ہوا۔
۴۔ یہاں کی سب سے بڑی مسجد جامع ،ملک عنبر کی بنائی ہوئی ہے (۱۶۱۲ء) جس میں اورنگزیب نے ۱۶۹۲ ءمیں توسیع کی تھی۔ یہ قلعہ کے اندر ہے۔
۵۔ ہمِرو اور مشرو اورنگ آباد کے سلک اور کپاس کی ملا وٹ سے بنے ہوئے عمدہ کپڑے ہوا کرتے تھے۔ یہ اب نا پید ہیں ، لیکن سلک ساڑھیاں اور شال پھر بھی مل جاتے ہیں۔
۶۔ وہ تجارتی مال جو بڑی دور دیس پردیس جاتا تھا۔
۷۔ یہ مقبرہ اب بی بی کا مقبرہ مشہور ہے۔ یہ کس نے بنوایا تھا اس پر اختلاف ہے۔ اورنگزیب کے اسلامی اصولی زندگی کا لحاظ کرتے ہوئے یہ کہناممکن نہیں کہ یہ اس کی تعمیر ہے۔ آعظم شاہ ان کے بیٹے کی خواہش تھی کہ ان کی ماں اورنگزیب کی پہلی بیوی رابعہ درانی کی ایک یادگار قا ئم کی جائے جو تاج محل کی طرز پر عظیم ہو۔ اورنگزیب نے اس کے لئے سات لاکھ رو پے آعظم شاہ کی خواہش کو پورا کرتے ہوئے اس کو بنانے کے لئے دیئےتھے۔ جب کہ تاج محل پر تین کروڑ اور بیس لاکھ کا خرچ آیا تھا۔
۸۔ خلد آباد صوفیوں کی سر زمین ہے، یہاں ۱۵۰۰ صو فی دفن ہیں۔ان میں مشہور زین الدین( ۱۳۷۰ ء) شیراز سے تشریف لائے، بر ہان الدین (۱۳۴۴ء) محمد تغلق کے ساتھ آئے، جلال الدین گنج بخش جو علا ؤالدین خلجی کے ساتھ آخری تیروھیں صدی میں آئے اور منتجب الدین زر زری بخش (۱۳۰۹ء) میں تشریف لائے۔ اس کے علا وہ، اورنگزیب، ملک عنبر اور آصف جاہ اول کی قبور بھی یہیں ہیں۔
۹۔ بلفور لفظ مجھے ترکی ڈکشنری میں نہیں ملا۔
۱۰۔ ایلورا کے غار اب یونسکو نے ثقافتی ورثہ قرار دیدیئے ہیں۔ ان بدھ مت آثارات کے لئے جاپانی حکومت نے ہندستانی حکومت کی کافی امداد کی ہے، یہاں کےانتظام میں اس مدد کی وجہ سے کافی آسانیاں پیدا ہو گئی ہیں۔
۱۱۔ لنگ یا لنگم جنو بی ہندی مذاہب میں پوجا پاٹ میں استعمال ہوتا ہے۔ اس کے معٰنی میں اختلاف ہے، آیا یہ ایک جنسی علامت ہے یا باطنی طاقت؟ آخری معٰنی پر آج کل ہندو مذاہب کے پنڈتوں کا زور زیادہ ہے۔
۱۲۔ انڈین پینن سولر ریلو ے جو پہلی اگست ۱۸۴۹ کو عالم وجود میں آئی۔ اس کا ہیڈ کواٹر بوڑھی بندر ، بمبٰی میں تھا جو اب چھتر پتی شیوا جی ٹرمنس ہے۔ اس ریلوے کو ۱۹۵۱ میں سٹرل ریلوے کا نام دے دیا گیا ہے۔
۱۳۔ یہ اب ناسک ڈسٹرکٹ مہا راشٹر میں ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *