Zikir kuch Delhi ka hoja ya


ذکر کچھ دلّی کا ہو جائے

مصنف و مرتب ۔ محمود علی بیگ ۔حسن علی بیگ

مغل زمانے کی دلّی کی بات نہیں، انگریز دور کا ذکر ہے، جب والد صاحب کا بچپن تھا۔ انہوں نے یہ یاداشتیں ۱۹۸۱ ؁ میں تحریر کیں تھیں۔
اگر ہم شروع بیسویں صدی کی دلّی کو دیکھیں تو ہمیں ایک اسلامی شہر نظر آتا ہے۔ مسلمانوں کا تہذیبی اور معاشرتی اثر غالب تھا۔ اردو کی ترقی کا زمانہ تھا ۔مسلم تہوار اور تقا ریب زورو پر منائےجاتے تھے۔ عید اور بقرا عید بڑے مسلم تہوار تھے۔ نماز کے لئے سب تیار ہو کر جاتے۔ کبھی جامع مسجد اور کبھی عید گاہ۔ بچوں کے لئے کھلو نے خریدے جاتے۔ عیدی تقسیم کی جاتی تھی، یہ نہ صرف اپنے سے چھوٹوں کو دی جاتی بلکہ نوکروں، چاکروں اور کام کرنے والوں میں بھی تقسیم کی جاتی تھی، بقرا عید پر قربانی میں وقت گزر جاتا تھا۔ عید بقراعید پر ہندو بھی مبارک باد دینے آتے تھے۔
انگریز بغاوت ہندستان ۱۸۵۷ کے اصل محرک مسلمانوں کو سمجھتے تھے۔ دلّی کے زوال کے بعد مسلمانوں پر جو ظلم کیے گئے ان کا تفصیلی بیان مختلف تصانیف میں ملتا ہے، غالب نے تو خاص طور پر اپنے خطوط میں یہ ذکر کیا ہے ۔ جب چار سال بعد مسلمانوں کو واپسی کی اجازت ملی تو آہستہ آہستہ مسلمانوں کا اثر دوبارہ قائم ہو تا گیا حتٰی کہ بیسویں صدی کے شروع میں جس زمانے کا ذکر اس مضمون میں ہے دلّی پھر ایک مسلم شہر کہلا نے لگا۔
لیکن اس کے ساتھ ساتھ دلّی میں مسلمان اور ہندو دو نوں رہتے تھے۔ ایک دوسرے کے غموں میں شریک ہوتے تھے ، ایک خاص قسم کی تہذیب ابھر کر آئی تھی جس میں بڑا سکون اور اطمینان حاصل تھا، بہت سے تہوار قومی سطح پر منائے جاتے تھے۔، اس میں عید، بقرا عید، محرم، دیوالی، دسہرہ اور ہولی شامل تھے۔ انگریزی عہد سے پہلے یہ تہوار قلعے میں منا ئے جاتے تھے۔ سب مذاہب کے لوگ اس میں شریک ہوتے۔ ہندو مٹھائی کے بڑے بڑے تھال لاتے۔ اس میں عمدہ عمدہ مٹھائیاں ہوتی تھیں جو اب دیکھنے میں بھی نہیں آتیں۔ خالص پستہ بادام کی لوزاتیں، برفیاں کثیر تعداد میں آتیں۔ گھر میں خوب کھا ئی جاتیں اور کنبے اور رشتے داروں کو تقسیم کی جاتیں، آنے جانے والی انیوں خنیوں (۱) کو دی جاتیں، دسہرے کے موقعے پر چھوٹی ذات کے ہندو ٹیسو (۲) لے کر آتےاور گانا گاتے ’ہماراٹیسو یہاں اڑا، کھانے کو مانگے دھی بڑا۔ دھی بڑے میں مرچیں بہت ،آگے دیکھو تو قا ضی کا حوض‘، ان کوخیرات دی جاتی تھی۔ جس پر وہ خوشی خوشی چلے جاتے۔اس قسم کی کئی ٹولیاں آتیں اور انعام پاتیں۔ دیوالی کے موقعہ پر ہندو لڑکیوں کی ٹولیاں جھانجی (۳)لے کر آتیں، وہ بھی گانا گاتیں ’ جھانجی لے لو جی جھانجی لے لو، ننے کی ماں جھانجی لے لو۔ ہو لی کے موقعے پر ہندو ایک دوسرے پر گلال (لال رنگ) پھینکتے تھے، یہ موسم بہار کی خوشی منانے کے لئے ہوتا، مگر مسلمانوں پر رنگ نہیں پھینکتے تھے، کسی مسلمان کو آتا دیکھتے تو رک جاتے تھے،جب تک مسلمان خود ہی اس میں شریک ہو ناچاہے۔ نیچی ذات کے لوگوں کی ٹولیاں گلی گلی، بازار بازار گاتے ناچتے پھرتے تھے، یہ ہولی کے بھڑوے (۴)کہلاتے تھے۔ لوگ ان کو بھی انعام یا خیرات دیا کرتے تھے، محرم کے موقعہ پر ہندو شہدائے کربلا کے جلوس میں شریک ہوتے، سبیلیں لگاتے، پانی اور شربت پلایا کرتے تھے۔ دسہرے کے موقعہ پر دس روز تک رام لیلا کا جلوس بازاروں میں سے گزرتا تھا، ہندو مسلمان سب اس کو دیکھنے جاتے تھے۔ شاہ جی کے تلاب کے پاس اجمیری دروازے کے باہر بہت بڑا میدان تھا، (۵) وہاں اس کہانی کو دوہراتے جو رام چندر (۶) اور سیتا کے متعلق مشہور ہے۔ یہ رام لیلا کا ڈرامہ دس دن تک جاری رہتا تھا۔ یہ سب بغیر کسی ٹکٹ کے ہوتا۔ چاروں طرف شامیانے لگ جاتے، کچھ حصہ خالی چھوڑ دیا جاتا جہاں اس وقت کے دلی کے رئیسوں کی گاڑیاں کھڑی ہو جاتیں، وہ گاڑیوں میں ہی سے یہ تماشہ دیکھتے، یا اتر کر شامیانے میں بیٹھ جاتے۔ ڈرامے میں کام کرنے والے عام طور پر لڑکے ہوتے تھے، ان کے چہرے اور بدن پر زرد رنگ مل دیا جاتا، ان کے ہاتھوں میں تیر کمان ہوتے، کوئی رام اور کوئی لچھمن بنتا، ایک لڑکا سیتا بنتا، کچھ دم لگاکر بندر بن جاتے۔ بندروں کی فوج رام کا ساتھ دیتی، راون بھی اپنی فوج کے ساتھ کرتب دکھاتا ہوا آتا۔ آخری دنوں میں راون اور اس کے دو بھائیوں کے اونچے اونچے مجسمے بنائے جاتے اور ان میں آتش بازی اور پٹاخے بھر دئیے جاتے، رام آکر انپر تیر مارتا، جس کو تیر لگ جاتا اس کے مجسمے میں آگ لگاتے جاتے، بڑے زور شور سے اس میں پٹاخوں کی آوازیں آتیں، ان پٹاخوں کی آوازوں سے گھوڑے بدکتے رہتے تھے، سائیسوں کو گھوڑوں کو پکڑ کر کھڑے رہنا پڑتا تھا۔ اصغر حسین لکھنوی عطر فروش کی دکان چاوڑی بازار میں تھی، وہاں سے یہ جلوس گزرا کرتا تھا، ہم ان کی دکان میں بیٹھ کر یہ تماشہ دیکھا کرتے تھے ۔ وہ ضرور ہم کو عطر کا ایک پھویا دیا کرتے تھے اور پان سے تواضع کرتے۔ آخری دن راون کے جلنے کا تماشہ ہم شاہ جی کے تلاب کے باہر جا کر دیکھا کرتے تھے۔
اس زمانے میں بھنگی یا بھنگن جب بازار سے گزرتے تو آواز دیتے جاتے تھے، ’ہٹو، بچو، ججمان ( ۷ ) جی کی خیر ہو‘ لوگ آواز سن کر راستہ دے دیتے تھےتاکہ بھنگی کسی سے چھو نہ جائے اور کپڑے ناپاک کردے، مجھ کو یاد ہے کہ ایک مرتبہ ایک بھنگی سہ پہر کو نہا دھو کر صاف کپڑے پہن کر بازار سے گزر رہا تھا، اس نے آواز نہیں دی اور ایک آٹے والے جس کا نام محمود تھا سے چھو گیا، اسی وقت اس نے جوتی اتار کر اس بھنگی کی خوب پٹائی کی اور کہا تیری یہ ہمت کے بغیر آواز دئیے بازار سے گزر رہا ہے، میرے کپڑے گندے کر دئیے، سب ہندو مسلم جو وہاں تھے انہوں نے کہا ٹھیک کیا، بد معاش ہے آواز نہ دی۔
سردار مرزاممتحن چشم کا قصہ
یہ صاحب کھڑکی فراش خانے کے قریب، گلی آخوند صاحب کے سامنے جو اب مرزا ہی کے نام سے منسوب ہے، آخیر سے پہلے مکان میں رہا کرتے تھے۔ اچھے کھاتے پیتے آدمی تھے، عینکوں کی تجارت کرتے تھے، ذاتی مکان تھا، گھر کی سواری تھی، شہر کے باہر جاتے تو ڈاک بنگلے میں ٹھہر تے تھے، شہر میں اشتہارات تقسیم کرادیتے کہ سردار مرزا ممتحن چشم تشریف لے آئے ہیں اور فلاں مقام پر ٹھہرے ہوئے ہیں، جن صاحب کو چشمہ لینا ہو ان کے پاس جا کر لے۔ کسی کے گھر پر نہیں جاتے تھے، نہ کہیں دکان تھی، اس سے ان کی اچھی آمدنی تھی، مگر ان کا مزاج بڑا عجیب تھا، بڑے جھگڑالو تھے، ذرا سی بات پر لڑنے مرنے کو تیار ہو جاتے تھے۔ بازار فراش خانہ زیادہ چوڑا نہیں تھا، دکان دار دھوپ سے بچنے کے لئے اپنی دکانوں کے آگے پردے لگادیا کرتے تھے، سردار مرزا جب گاڑی میں بازار سے گزرتے تو دکاندار جلدی جلدی اپنے پردے اتار لیا کرتے ورنہ ان کی گاڑی کے گزرنے میں رکاوٹ ہو تی تو چابک لے کر پل پڑتے تھے، مارنے کو تیار ہو جاتے، دکاندار بھی کیو نکہ اہل محلہ ہی تھے جھگڑا پسند نہیں کرتے تھے اور ان کا خیال کرکے اپنے پردے جلدی جلدی ہٹا لیتے تھے۔ فراش خانے میں ایک گلی تھی جس کا نام چھتہ چو ہیا تھا (بعد میں اس کو بدل کر چھتہ نواب صاحب کردیا گیا تھا) وہاں شیعہ حضرات کثیر تعداد میں رہتے تھے، سب پڑھے لکھے تعلیمیافتہ تھے، مکان زیادہ بڑے نہیں تھے، وہ محرم میں مجلس کرتے تو جگہ کم پڑتی تھی، اس لیے محمد مرزا مرحوم رٹائرڈ تحصیلدار نے ایک بڑا عالیشان مکان سردار مرزا کے مکان سے ملحق بنوایا کہ وہاں مجلس ہو سکے، اور اس مکان کا نام عشرت منزل رکھا۔۔ جب بھی شیعہ حضرات مجلس کرنی چاہتے سردار مرزا مزاحمت کرتا، وہ اپنے گھر سے کوڑا کرکٹ پھینک دیتا اور جھگڑا کرتا تھا۔ اسپر شیعوں اور اس کے درمیان مقدمہ بازی شروع ہو گئی، جب ا ِس نے طوالت پکڑی اور صورت حال سنگین ہو گئی تو محلے کے ذی اثر حضرات نے کو شش کی کے تصفیہ کرادیا جائے، مگر سردار مرزا نہ مانا اور جو محلے والے بیچ میں پڑتے تھے ان پر بھی مقدمہ قائم کردیا اور مدعہ علیہ میں ان کو بھی شامل کرلیا اور سب محلے والوں سے مقدمہ بازی شروع ہو گئی، پھر تو یہ حال ہوا کہ اگر اس نے اپنے وکیل کو مخالف گروہ کے کسی آدمی سے بات کرتے دیکھ لیا تو اس کو بھی مدعہ علیہ میں شامل کر لیتا اور دوسرا وکیل کر لیتا۔، کو ئی اس کو سمجھانے کی کوشش کرتا تو اس پر بھی مقدمہ قائم کردیتا ، اس طرح کئی فوجداری مقدمات بھی کھڑے ہو گئے۔ سپرٹنڈنٹ پولیس نے دیکھا کہ تمام محلے کے پڑھے لکھے لوگ اس مقدمہ بازی میں ملوث ہیں تو اس نے سب کو مد عو کیااور تصفیہ کرانے کی کوشش کی۔ یہ سپر نٹنڈ نٹ انگریز تھا، سپر نٹنڈنٹ نے سب کو بٹھا یا، کیونکہ سردار مرزا فریق ثانی تھا اس کی طرف بعد میں اشارہ کیا کہ آپ بھی بیٹھیں، بس اسی پر اس سے لڑ پڑا کہ مجھ کو بعد میں بیٹھنے کو کیوں کہا، پہلے مجھ کو کیوں نہ بٹھایا۔ سپر نٹنڈنٹ کی طرف گھونسہ تانا۔ اس نے بھی جوابی گھونسہ تان لیا اور جلسہ درہم برہم ہوگیا۔ الغرض محلے کا ذی اثر کوئی آدمی ایسا نہ بچا جس سے اس کی مخا لفت اور مقدمہ بازی نہ ہو رہی ہو۔ ایک دن اس کے ہم محلہ معروف حکیم شجاع الدین صبح بازار سے پیدل کسی مریض کو دیکھنے جارہے تھے، سامنے سے سردار مرزا اپنی گاڑی میں آرہا تھا، کیونکہ وہ اس کے مزاج سے واقف تھے اس لئے کسی شر سے بچنے کے لئے ایک طرف ہو گئے پھر بھی اس نے ان کے پاس پہنچ کر چابک اٹھالیا، بس پھر کیا تھا حکیم صاحب کو بھی غصہ آگیا۔ ان کے ہاتھ میں لکڑی تھی پھر جو انہوں نے دو ہتھیاں مارنی شروع کیں تو اتنا مارا کہ اس کا ہاتھ ٹوٹ گیا، سر پھٹ گیا، گاڑی ٹوٹ گئی اور وہ ننگے سر اور ننگے پیر بھاگا۔ بعد میں اس نے پولیس میں رپورٹ درج کرانے کی کو شش کی مگر کسی محلے والے نے اس کی حما یت میں گواہی نہ دی اور وہ رو پیٹ کر خاموش ہو گیا۔ ایک دفعہ بڑا کڑ کڑاتا جاڑا پڑ رہا تھا، لحاف میں سے انگلی بھی نکالی نہ جاتے تھی، سردار مرزا صبح کو اٹھا، بیوی سے کہا میں نہاؤں گا، پانی گرم ہے؟ بیوی نے جواب دیا نہیں میں ابھی کردیتی ہوں، ذرا ٹھرو، کہنے لگا نہیں ہم ٹھنڈے سے ہی نہا لینگے، بیوی نے کہا آئے ہائے ٹھنڈے پانی سے اس جاڑے میں نہاؤگے! کہنے لگا ہم برف ڈال کر نہا ئیں گے۔ چنانچہ بازار سے برف کی سلّی منگائی اور ٹب میں ڈال کر نہانے بیٹھ گئے، جیسے ہی بدن پر پانی ڈالا روح پرواز کر گئی۔ محلے میں شیعوں کو خبر ہوئی بڑی خوشی منائی ، مجلس کی اور مٹھائی تقسیم کی۔
قطب صاحب کا حال:
یہ بستی دلّی سے گیارہ میل پر واقع تھی۔ چھو ٹا سا قصبہ تھا، اچھی آب و ہوا تھی، نہایت ہاضم پانی تھا۔ وہاں کنویں بہت گہرے تھے، پانی اتنا نیچے تھا جیسے تارہ چمک رہا ہو۔۔ بڑی لمبی رسی ڈال کر پانی کھینچا جاتا تھا۔ ادھر پانی پیا ادھر کھانا ہضم۔ دلّی والوں کو پہاڑ پر جانے کی ضرورت ہی نہ تھی، بس قطب صاحب چلے گئے، آدمی بڑی جلدی صحت یاب ہو جاتا تھا۔، کچھ آب و ہوا کا اثر کچھ درگاہ کی برکت تھی۔ گاؤں کی سی آبادی تھی، اسی قسم کی دکانیں تھیں۔ گھر بھی پرانی وضع کے تھے، کچھ کچے کچھ پکے، بازار کے دونوں طرف عمارتیں اور دکانیں پختہ تھیں، وہ سب دلّی کے روساء کی تھیں۔ جب کبھی وہ قطب صاحب جاتے وہاں ہی ٹھیرا کرتے۔ بقیہ سال خالی پڑی رہتی تھیں۔ وہاں ایک مڈل اسکول بھی تھا، جہاں آس پاس کے گاؤں کے بچے آکر پڑھا کرتے تھے، تحصیل تھی، تھانہ تھا، شفاخانہ تھا، مویشیوں کا شفا خانہ بھی تھا۔ الغرض بڑی اچھی چھو ٹی سی آبادی تھی ، سکون و اطمینان تھا۔ ہندو اور مسلمان دونوں وہا ں رہتے تھے اور میل جول تھا۔ وہاں کبھی فرقہ وارانہ فسادات نہیں ہو ئے۔ قطب صاحب کی آبادی کو مذہبی اور تاریخی دونوں قسم کی اہمیت حاصل ہے۔ ہندو اور مسلمان، دونوں کی مذہبی اور تاریخی نوعیت کے مقامات مو جود ہیں۔ درگاہ حضرت قطب الدین بختیار کا کی ؒ کی ہے۔ بہت بڑا اس کا علاقہ ہے اس کے آس پاس دوسرے بزرگوں اور بادشاہوں کے مزار اور مقبرے ہیں، مساجد ہیں ، باؤلی ہے، کنویں ہیں اور حوض ہے۔ حضرت کا مزار چوڑا چکلا ہے، کھلے میدان میں ہے اور اس کے اوپر کوئی گنبد نہیں۔ حضرت بابا فرید گنج شکر ؒ اور مرید حضرت محبوب الٰہی ؒ نے خود مٹی کی ٹوکریاں سر پر اٹھا کر مزار پر ڈالی تھیں۔ یہاں حاجتمندوں اور تمنائیوں کی ہر وقت بھیڑ رہتی ہے۔ جمعرات کو خصوصیت سے بڑا ہجوم ہوتا ہے۔ ان کا عرس ربیع الاول کے مہینے میں ہوتا ہے۔ اس زمانے میں دلّی والوں کی کثیر تعداد درگاہ پر حاضری دیتی ہے، زیارتیں کرتے ہیں، دعائیں مانگتے ہیں، نذریں چڑھاتے ہیں اور بعد میں اطراف و اکناف کی سیر کرتے ہیں۔حوض، جھروکے اور باغات اس کے لئے موجود ہیں۔ عرس کے زمانے میں دور دور سے قوال آتے ہیں۔ مزار سے دور بیٹھ کر کبھی کھڑے اور کبھی بیٹھ کر گاتے ہیں اور لوگوں کو حال میں لاتے ہیں۔
شاہ شہید فرخ سیر نے مزار کے ایک طرف سنگ مر مر کی ایک نازک جالی کی دیوار کھڑی کر دی تھی، جو نزاکت ، خوبصورتی اور شفافی میں بے نظیر ہے۔ مستورات اسی جالی کے پاس کھڑی ہو کر فاتحہ پڑھتی ہیں، وہ مزار کے اندر نہیں جا سکتیں۔ او لیاء مسجد مزار سے کچھ فاصلے پر شمسی تالاب کے کنارے واقع ہے، مشرق کی جانب سڑک ہے اور مغرب کی طرف تالاب۔ سڑک کی جانب کرسی اونچی نہیں، مگر تالاب کی طرف سے کوئی بارہ فٹ بلند ہے، سیڑھیوں سے اتر کر تالاب پر جاتے ہیں۔ تالاب پانی سے بھرا رہتا ہے۔ اس میں سنگھا ڑے کی بیلیں پڑی رہتی ہیں۔ جس کی وجہ سے منظر اچھا ہو جاتا ہے۔ مسجد اولیاء کے متعلق مشہور ہے کہ اس کی بنیاد حضرت معین الدین چشتی ؒ نے رکھی تھی۔ جو شخص اس مسجد میں نماز پڑھتا ہے اس کو نماز کی حقیقی لذت محسوس ہو تی ہے۔ کہتے ہیں کہ کبھی کبھی یہاں حضرت خضر ؑ بھی تشریف لاتے ہیں۔ الغرض یہ مقام زمین کا حصہ نہیں بلکہ رشک رضواں ہے۔ مشرق کی طرف کچھ فاصلے پر جھرنہ ہے۔ شمسی تالاب سے ہو کر زیر زمین وہاں پانی جاتا ہے۔۔ ایک بڑا حوض ہے جہاں لوگ بہت اوپر پہا ڑی پر سے کودتے ہیں۔ اس کے برابر چھوٹا اور کم گہرا حوض ہے، یہاں بچے نہاتے ہیں۔ تین طرف دالان در دالان سنگ سرخ کے بنے ہو ئے ہیں۔ چوتھی طرف سے امریوں (۸)میں راستہ جاتا ہے، یہاں بڑے اونچے اونچے سایہ دار درخت ہیں۔ پھول والوں کی سیر پر لوگ جھولے ڈال کر بڑی بڑی پینگیں بھرتے ہیں اور چاروں طرف پہاڑیوں پر بیٹھے لوگ ان کو داد دیتے ہیں۔ اولیاء مسجد سے کچھ فاصلے پر ایک ٹیلے پر بہت کشادہ چبوترہ ہے، اس پر چالیس قبریں ہیں، جو چہل تن چہل من کی قبور کہلاتی ہیں۔ وہ اس طرح بنائی گئی ہیں یا صا حبان قبور کی کرامت ہے کہ کوئی شخص ان کو ٹھیک گن نہیں سکتا، ایک مرتبہ گنے گا تو چالیس، دوسری مرتبہ انتالیس، تیسری مرتبہ وہ
اکتا لیس ہو جائیں گی۔ آبادی شروع ہونے سے قبل قطب مینار ہے جس میں پونے چار سو سیڑھیاں ہیں۔ یہ سنگ سرخ کی بنی ہوئی ہیں۔ مینار کے چاروں طرف آیات قرانی پتھر پر کندہ ہیں۔ مینار میں پانچ کھنڈ (۹) ہیں، سب سے اوپر چھتری تھی جو گرگئی، اب اس کو قریب میدان میں نسب کر دیا گیا ہے۔ قطب مینار ایک مسجد کا مینار ہے، جب دوسرا مینار بنّا شروع ہوا تو بادشاہ قطب الدین کا انتقال ہو گیا اور مسجد نامکمل رہ گئی۔ مینار کے قریب ہی عمارت میں ہندوں کا مندر تھا، جہاں ہر پتھر پر بت بنا ہوا ہے، صحن میں لوہے کی لاٹھ ہے ، جو راجہ پرتھوی راج کے زمانے میں
نجو میوں کے کہنے پر گڑوائی گئی تھی، کیونکہ ان کا خیال تھا کہ ایک اژدھا زمین کے نیچے سے گزر رہا ہے، اگر اسے نہ روکا گیا تو سلطنت ختم ہو جائیگی۔
لاٹھ کے قریب ہی بے شمار مزارات اور مقبرے اور ایک مسجد ہے۔ تھوڑے فاصلے پر شمس الدین التتمش کا مقبرہ ہے۔ یہ بڑا نیک اور صوم و صلوۃ کا پابند بادشاہ گزراہے۔ حضرت قطب الدین بختیار کاکیؒ کا مرید اور خلیفہ تھا۔ حضرت نے وصیت کی تھی کہ میرے جنازے کی نماز وہ شخص
پڑھا ئے جس کی عصر کی سنتیں قضا نہ ہوئی ہوں۔ جنازہ جب لے جایا گیا تو یہ اعلان کیا گیا، کوئی شخص ایسا نہ نکلا جس کی عصر کی سنتیں قضا نہ ہوئی ہوں، شمس الدین التتمش آگے بڑھے اور کہا آج میرا راز فاش ہو گیا اور پھر انہوں نے حضرت کے جنازے کی نماز پڑھائی۔
دلّی سے قطب کے گیارہ میل کا علاقہ ایسا ہے جہاں چپہ چپہ پر تاریخی عمارات مو جود ہیں، اور قطب صاحب میں تو یہ بے شمار ہیں۔ تھوڑی دور جنگل میں ایک بڑا پتھر یا کہو کہ پہاڑ کا ٹکڑا رکھا ہوا ہے، لوگ اس کو جن کی چھٹنکی کہتے ہیں، یہ کچھ اس طرح رکھا ہے کہ اس کو ہلاؤ تو ہلتا ہے۔
پھول والوں کی سیر:
سال میں ایک مرتبہ یہاں برسات کے موسم میں میلہ لگتا ہے جو پھول والوں کی سیر کہلاتا ہے۔ اس میں ہندو و مسلمان سب شریک ہوتے ہیں، دلّی کا سارا شہر یہاں امنڈ آتا ہے، بڑے زور شور کا میلہ ہوتا ہے، جلوس نکلتا ہے، مسلمان حضرت قطب الدین بختیار کاکیؒ کے مزار پر پنکھا چڑھاتے ہیں اور ہندو جوگ مایا کے مندر پر، نفیری والے نفیری بجاتے ہوئے ساتھ ساتھ چلتے ہیں، سقے کٹورے بجاتے ہوئے ٹھنڈے پانی کی مشکیں کندھوں پر اٹھائے لوگوں کو پانی پلاتے پھرتے ہیں۔ ساقی حقّے اٹھائے ہوئے لوگوں کو حقّے کا دم لگواتے ہوئے ساتھ ساتھ چلتے ہیں، ان کے پاس بڑی لمبی سٹک (۱۰) ہوتی ہے۔ کوٹھوں پر بیٹھ کر جو لوگ جلوس کی سیردیکھتے ہیں ساقی ان کو نیچے سے ہی سٹک اوپر کوٹھے پر دے دیتے ہیں اور وہ وہیں سے بیٹھے بیٹھے حقّہ پی لیتے ہیں۔ یہ میلہ تین دن تک جاری رہتا ہے، کوئی مکان خالی نہیں ملتا، لوگ جنگلوں اور مقبروں میں رہائش اختیار کرتے ہیں۔ عجب رنگ ہوتا ہے۔ قطب کے کباب پراٹھے مشہور ہیں، نہایت ثقیل ہوتے ہیں، مگر لوگ خوب پیٹ بھر کر کھاتے ہیں، دن بھر سیر سپاٹے کرتے رہتے ہیں اور قطب کے کنو ؤں کا پانی پیتے ہیں ، سب ہضم ہو جاتا ہے۔ درگاہ شریف کے دروازے کے قریب سراج الدین بہادر شاہ کا
عا لیشان مکان بنا ہوا ہے، بڑا اونچا دروازہ ہے، وہ یہاں آکر قیام کرتے تھے اور پھول والوں کی سیر کا جلوس یہاں سے بیٹھ کر دیکھا کرتے تھے، تھوڑے ہی فاصلے پر ان کے معروف حکیم احسن اللہ خاں کا مکان بھی ہے(۱۱)۔
تو ضیحات:
۱۔ یعٰنی ہر آنے جانے والی عورتوں کو مٹھا ئی تقسیم ہو تی تھی
۲۔ ہندو بچے ایک مو رت کا سر بنا کر بانس پر اٹھا کر گا تے پھرتے ہیں، ان کے مطابق وہ ایک راجپوت تھا ، پانڈوں نے اسے قتل کر دیا، یہ اس کی یاد میں کرتے ہیں۔ مولوی سید احمد مر تب فرہنگ آصفیہ کے مطابق اس قسم کا کوئی ذکر مہا بھارت میں نہیں۔ یہ گھڑت معلوم ہو تی ہے۔
۳۔ ہندو لڑکیاں ہانڈی میں چھید کر کے اس میں چراغ جلا کر دعا ئیں دیتی اور خیرات مانگتی پھرتی ہیں۔
۴۔ دلاّل
۵۔ اب یہ میدان رام لیلا میدان کے نام سے ہی مشہور ہے
۶۔اجو دھیا کے راجہ وشرتھ کا بڑا بیٹا جس نے لنکا کے راجہ راون کو شکست دے کر اپنی محبو بہ سیتا کو حا صل کیا۔ یہ قصہ راما ئن میں درج ہے۔
۷۔ مخدوم، آقا، مربّی
۸۔ آم کے درختوں کا جھنڈ
۹۔ منزلیں
۱۰۔ پیچوان، نے
۱۱۔حکیم ظل الرحمان، دلّی اور طب یو نانی لاہور ۱۹۹۷۔ ص ۱۹۰

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *